ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مغربی ایشیا جنگ اور ایل پی جی بحران پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ، وزیر اعظم سے جواب طلب: کھرگے

مغربی ایشیا جنگ اور ایل پی جی بحران پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ، وزیر اعظم سے جواب طلب: کھرگے

Thu, 12 Mar 2026 11:42:58    S O News

نئی دہلی ، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ملکارجن کھرگے  نے بدھ کے روز مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ملک میں ایل پی جی گیس کی قلت کے معاملے پر پارلیمنٹ میں جامع بحث کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم مسئلے پر حکومت کو ایوان میں وضاحت پیش کرنی چاہیے اور وزیر اعظم  نریندر مودی کو خود پارلیمنٹ میں آ کر جواب دینا چاہیے۔

ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کی جا رہیں نام نہاد ذرائع پر مبنی یقین دہانیاں دراصل اس کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق مغربی ایشیا میں ممکنہ جنگ کے بارے میں پہلے ہی اندازے موجود تھے لیکن اس کے باوجود حکومت نے ہندوستان کی توانائی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

کھرگے نے کہا کہ اب صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کھڑگے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایندھن کی کمی کے باعث زرعی سرگرمیوں اور کھاد کی فراہمی پر منفی اثر پڑ رہا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی محدود ہوگئی ہے، گیس حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاریں لگ رہی ہیں اور بعض مقامات پر گھریلو سلنڈر کے لیے پچیس دن تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی سلنڈروں کی قلت بھی سنگین صورت اختیار کر رہی ہے۔

کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ گیس کی کمی کے سبب کئی ریسٹورنٹ اور چھوٹے کھانے کے مراکز بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جس سے عوامی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔

کھرگے نے اپنی پوسٹ میں ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کے دوران حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ پچاس دن کے اندر نقدی کی قلت ختم ہوجائے گی، جبکہ کورونا وبا کے دوران بھی ابتدا میں اس بحران کو سنجیدہ مسئلہ نہیں بتایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اب مغربی ایشیا کی کشیدگی کے دوران بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان کے پاس چوہتر دن کا تیل اور توانائی کا ذخیرہ موجود ہے، لیکن زمینی حالات مختلف نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے پر پارلیمنٹ میں مکمل بحث ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو ایوان میں آکر ملک کو جواب دینا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام کو اصل صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ادھر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی الزام لگایا کہ ملک میں رسوئی گیس کی قلت حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر عوام کب تک اس طرح کی صورتحال برداشت کریں گے۔ اسی دوران آل انڈیا مہلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گھریلو گیس سلنڈر اور تجارتی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے اور حکومت کو اس معاملے پر جواب دینا چاہیے۔


Share: