بنگلورو،26/ستمبر (ایس او نیوز) ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا کی بدعنوانی کے تعلق سے دستاویزات 23؍ستمبر کو جاری کرنے کا اعلان اور ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی خودکشی سے متعلق وزیر برائے بنگلور ترقیات کے جے جارج کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے والے بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یڈ یورپا نے اب تک ایسی کوئی دستاویزات جاری ہی نہیں کی ہیں۔ اب اچانک ایسے احتجاجات سے پچھلے ہٹ جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ایڈی یورپا ان دنوں جس طرح کی سیاست کررہے ہیں یہ ہٹ اینڈرن جیسا معاملہ ہے۔ اس طرح وہ بھی ہٹ اینڈرن والے سیاستدانوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی وقتاً فوقتاً سی ڈی جاری کرنے کا اعلان کرکے ہٹ اینڈرن کی پالیسی پر عمل کرتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح ایڈی یورپا بھی ہٹ اینڈ رن کی سیاست پرعمل کرنے لگے ہیں۔ ایڈی یورپا نے سدارامیا کی بدعنوانی کے خلاف دستاویزات جاری کرنے کی جوبات کہی ،وہ جھوٹی ثابت ہوئی۔ ان کی بات میں کوئی دم نہیں۔ سیاسی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ دراصل ایڈی یورپا کے پاس وزیراعلیٰ سدارامیا کے خلاف کوئی دستاویزات ہیں ہی نہیں۔ اس سے قبل بھی وہ 2010میں کئی مرتبہ اسی طرح کی دستاویزات جاری کرنے کا اعلان کرکے ایک بھی بار کوئی ٹھوس دستاویز جاری نہیں کی۔ ان کے ایسے اعلانات پر کانگریس نے بھی کبھی سنجیدہ توجہ نہیں دی۔ ایڈی یورپا کئی موقعوں پر ان کی مخالف پارٹی لیڈروں کے خلاف دستاویزات جاری کرنے کا اعلان تو کرتے ہیں لیکن کبھی بھی ان اعلانات کے مطابق کوئی دستاویز جاری نہیں کی اس کی کیا وجہ ہے؟ حقیقت میں کیا ایڈی یورپا کے قبضہ میں ایسی دستاویزات ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اس پر سنجیدہ غورکرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی جیسی ایک قومی پارٹی کے ریاستی صدر کو اپنے عہدہ کے وقار کا خیال رکھتے ہوئے باتیں کرنی چاہئیں۔ جوبات کرتے ہیں اس پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ آئندہ سے ایڈی یورپا کو ایسے اعلانات نہیں کرنے چاہئے جس پر وہ عمل نہیں کرسکتے۔ ریاستی وزیر برائے توانائی ڈی کے شیوکمار کی رہائش گاہ پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپوں کے بعد اور جنوبی کینڑا ضلع کے انچارج وزیر بی۔ رماناتھ رائے ان دونوں وزراء کے استعفیٰ کا بی جے پی نے مطالبہ کیا۔ ان دو وزراء کے خلاف بی جے پی نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔ نتیجہ کیانکلا۔
عام جلسوں میں اعلانات: ریاستی حکومت کے خلاف اپوزیشن بی جے پی کے اعلانات عام جلسوں تک محدود ہیں۔ حال ہی میں بی جے پی کے ریاستی صدر نے چند وزراء اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہوں کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب تک نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ کے خلاف دستاویزات جاری نہیں ہوئیں۔ یہ سب عام جلسوں میں اعلانات تک ہی محدود ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں: یڈ یورپا ایسے دعوے پہلی بار نہیں کررہے ہیں۔2010 میں اعلان کیا تھا کہ کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کی بدعنوانی کے خلاف دستاویزات جاری کرنے کا اعلان، مارچ 2012؍میں جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی کے کنبہ کے گھپلوں سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کی باتیں ۔ ماہ اپریل 2013 میں بی جے پی چھوڑ کر کے جے پی کے قیام کے دوران کہاکہ کے جے پی کے سابق صدر دھنجیا کمار نے سابق نائب وزیراعظم ایل کے اڈوانی کو بھاری رشوت دینے کی دستاویزات موجود ہیں،بہت جلد جاری کریں گے۔ یہ تمام اعلانات صرف اعلانات تک ہی محدود رہے۔ ماہ جنوری2017 میں سدارامیا کابینہ کے تین وزراء کی بدعنوانی کے خلاف دستاویزات اور ماہ فروری میں بی بی ایم پی میں بھاری پیمانے پر دھاندلیوں کی دستاویزات ہونے کا اعلان کیا اور انہیں جاری کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس میں سدارامیا کے ملوث ہونے کی بھی بات کہی۔ اسی مہینہ میں ایڈی یورپا نے ایک اور بم ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ سدارامیا پر کانگریس ہائی کمان کو بھاری عطیہ ایک ہزار کروڑ روپئے دینے کی دستاویزات ہونے کا دعویٰ کیا لیکن ایسی کوئی دستاویزات اب تک منظر عام پر نہیں لائے۔ ان تمام حقائق سے ایڈی یورپا کو ہٹ اینڈرن سیاستدان کہنا غلط نہیں ہوگا۔