ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوگی آدتیہ ناتھ کے اپنے خلاف چل رہے مقدمات کوخارج کرنے پرئٹریوزرس نے یوپی پولیس کوکیاشرمندہ،یوپی پولیس ہوئی لاجواب

یوگی آدتیہ ناتھ کے اپنے خلاف چل رہے مقدمات کوخارج کرنے پرئٹریوزرس نے یوپی پولیس کوکیاشرمندہ،یوپی پولیس ہوئی لاجواب

Tue, 09 Jan 2018 11:22:16    S.O. News Service

لکھنو،8؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اترپردیش پولیس پریشان شہریوں کو راحت دینے کے لئے جس طرح سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی مدد کر کرنے کادعویٰ کررہی ہے اس سے ریاست میں ایک نئے انقلاب کابھی دعوی کیاجارہا ہے۔مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر کے ذریعے بحران میں پھنسے لوگوں کی ایک درخواست پر جس رفتار سے یوپی پولیس جواب دے کر کارروائی کر رہی ہے اسے قابل تعریف بتایاجارہاہے۔ پچھلے سال جہاں 72ہزار سے زائد لوگوں کی مدد ٹویٹر کے ذریعے ہوئی۔وہیں مارپیٹ، بے روزگاری اور بدعنوانی کی شکایات پر 90پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا تھا۔ 22پولیس اہلکارلائی حاضرکردئے گئے۔18پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آردرج کی گئی۔گزشتہ دنوں سوشل میڈیا انچارج راہل شریواستو نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گزشتہ سال سال 2017میں سوا دو لاکھ سے زائد افراد نے ٹوئٹر کے ذریعے پولیس میں شکایت کی۔ان میں سے 79761شکایات پر کارروائی کی گئی تھی،ان میں سے 72 ہزاریعنی92فیصد شکایات کانمٹاراکیا۔بتا دیں کہ سال 2016میں اکھلیش یادو کی حکومت کے دوران اترپردیش پولیس نے عوام کی پریشانیاں اور ان پر کارروائی کی پوزیشن جاننے کیلئے ’ٹوئٹر‘کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے لئے ریاست کے تمام اضلاع کے پولیس ا سٹیشنوں کو ہدایت دی گئی تھی وہ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹس کھولیں۔جس کے بعد عوام سے بہتر بات چیت کرنے، ان کے مسائل کو سننے اور پولیس کی طرف سے ان پر کی گئی کارروائی پر نظر رکھنے کے پیش نظر تمام تھانوں نے اپنے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کھولے ۔اس وقت سے مختلف مہموں کو یو پی کے ٹویٹر ہینڈل سے وقتا فوقتا شروع کیا گیا تھا۔پچھلے سال یو پی پولیس نے سماجی میڈیا پر بہت ساری سرگرمیاں دکھائیں۔دریں اثنا اتر پردیش پولیس نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے اور اس کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ریاستی پولیس نے جاری کردہ 45سیکنڈ کی ویڈیومیں ان تمام بیانات کا ذکر کیا ہے جو ٹویٹر پر موجود شکایتوں کے بعد کئے گئے تھے۔یوپی پولیس نے ویڈیو ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ کوئی کاغذ، نہ تھانا،پڑگیاٹوئٹ پہ جیل میں جانا۔یوپی پولیس کے اس ٹویٹ پر رائے کا اظہار کرتے ہوئے ابھے گپتا نامی ایک یوزر نے لکھا کہ ایک جو اپنے اور اپنے ساتھیوں کے خلاف 22 سال پرانے معاملے کو واپس لینے کے لئے اپنی طاقت کا استعمال کر رہا ہے،کیا آپ اس سے میری مدد کر سکتے ہو؟۔اتر پردیش پولیس نے ابھے گپتا کو فوراجواب دیتے ہوئے اس کیس کے بارے میں مکمل معلومات طلب کی۔یوپی پولیس نے ٹویٹ کیا کہ ’برائے مہربانی اپنا مسئلہ مختصر بتائیں۔اس کے بعدگپتانے اس خبرکالنک شیئرٹوئٹ کیا جس میں پچھلے دنوں یوگی آدتیہ ناتھ نے خودکے خلاف ایک 22سالہ پرانے کیسوں کوردکرنے کاحکم جاری کیاتھا،ابھے گپتاکے اس جواب کے بعدیوپی پولیس خاموش ہوگئی۔


Share: