الٰہ آباد /3 فروری (آئی این ایس انڈیا) طالبہ کے ساتھ جنسی استحصال کے الزام میں شاہ جہاں پور جیل میں 135 دنوں سے بندمعروف مذہبی پیشوااور سابق مرکزی وزیر مملکت چنمیانند کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔ چنمیانند گزشتہ 20 ستمبر سے جیل میں بند تھے۔
اس سے قبل رنگداری معاملے میں ملزم متأثرہ طالبہ کو ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد 11 دسمبر کو شاہ جہاں پور جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔جبکہ چنمیاند کیس سے جڑے معاملے کی سماعت 23 جنوری کو ہوئی تھی۔
جسٹس منوج مشرا اور جسٹس دیپک ورما کے ڈویڑن بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔اس وقت چنمیانند کی طرف سے مانیٹرنگ کیس میں فریق بنائے جانے کی مانگ کو بنچ نے مسترد کر دیا تھا۔ ساتھ ہی ضمانت پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ایس آئی ٹی جنسی استحصال اور رنگداری معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ایس آئی ٹی متأثرہ طالبہ اور چنمیانند دونوں کیخلاف درج مقدمات میں چارج شیٹ داخل کر چکی ہے۔
خیال رہے کہ شاہ جہاں پور کے ایک لاء کالج میں پڑھنے والی طالبہ نے 24 اگست کو ایک ویڈیو وائرل کرتے ہوئے مذہبی پیشوا چنمیانند پر جسمانی استحصال اور کئی لڑکیوں کی زندگی برباد کرنے کے الزام لگائے تھے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد طالبہ لاپتہ ہو گئی تھی۔ بعد میں پولیس نے راجستھان سے اسے برآمد کیا تھا۔ اس واقعہ میں 25 اگست کو متأثرہ کے والد کی جانب سے کوتوالی شاہ جہاں پور میں اغوا اور جان سے مارنے کی دفعات میں سوامی چنمیانند کیخلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔ وہیں چنمیانند کے وکیل کی جانب سے طالبہ اور اس کے دوستوں پر پانچ کروڑ کی رنگداری مانگنے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کرایا تھا۔