لکھنؤ،03/ستمبر(آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے ضلع بلیا میں پولیس اہلکار اور گاؤں والوں کے درمیان تصادم کی اطلاع ملی ہے۔
حراست میں ایک شخص پر مبینہ طور پر تشدد کرنے کے الزامات کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کی دیہاتیوں کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، متعدد دیہاتی بھی زخمی ہیں۔ کچھ منظر نامے سامنے آئے ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زخمی پولیس اہلکار اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
کچھ دیہاتیوں نے بتایا کہ بدھ کے روز بلیا کے راسرا میں پولیس چوکی پر پنّا راجبھر کو پوچھ گچھ کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس کا اپنے رشتہ داروں سے کچھ جھگڑا چل رہا تھا۔ اس کے بعد راجبھر کے کنبہ کی جانب سے ایک تحریری شکایت بھی دی گئی ہے، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس دوران اس کو بری طرح سے مارا گیا تھا کہ اہل خانہ کو سرکاری اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ اس شکایت میں سب انسپکٹر اور ہیڈ کانسٹیبل کا نام لیا گیا ہے۔معاملہ سامنے آنے کے بعد گاؤں کے بہت سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرہ کرنا شروع کردیا۔
جب پولیس پہنچی تو انہوں نے ہٹنے سے انکار کر دیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر پولیس چوکی کو آگ لگا دی اور کچھ موٹرسائیکل کو توڑ دیا۔ اس کے رد عمل میں پولیس نے احتجاج کرنے والے سیکڑوں دیہاتیوں پر لاٹھی چارج کرنا شروع کردیا۔ مقامی لوگوں کے ذریعہ موبائل فون پر کچھ ویڈیوز ریکارڈ کی گئیں ہیں، جس میں لوگ پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں، جبکہ کچھ فوٹیج بھی سامنے آئے جس میں پولیس کی لاٹھی چلتی نظر آرہی ہے۔
ابھی تک اس معاملے میں بلیا پولیس کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ تاہم کچھ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ پولیس اہلکاروں کے سر میں چوٹ لگی ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔