ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی میں آرٹی ای ایکٹ کے بہانے مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کا نوٹس ؛ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے

یوپی میں آرٹی ای ایکٹ کے بہانے مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کا نوٹس ؛ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے

Thu, 10 Aug 2017 20:25:25    S.O. News Service

نئی  د ہلی:۱۰؍ اگست(ایس او نیوز/پریس ریلیز) اترپردیش میں آرٹی ای ایکٹ ۲۰۰۹ء کا حوالہ دے کر سرکاری محکمہ کی جانب سے دینی مدارس کو فوری طور پر بند کرنے کا نوٹس تھمایا جارہا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب چند مدارس کے ذمہ داروں نے جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی سے رابطہ کرکے تعاون کی گزار ش کی۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر کو نوٹس کی چند کاپیاں موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق یہ معاملہ بارہ بنکی ضلع کا ہے ، جہاں مدرسہ حفصہ للبنات نندورہ اور مدرسہ سراج العلوم کتوری کلاں کے ذمہ داروں کو بلاک ایجوکیشنل آفسرنے آرٹی ایکٹ باب4کی دفعہ 19-1کا حوالہ دے کر حکم دیا ہے کہ فوری طور پر اپنی درس گاہوں کو بند کریں اور اس کی اطلاع بلاک افسر سندیپ کمار ورما کو دیں ۔ نوٹس میں مذکورہ ایکٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر تسلیم شدہ ادارہ چلاتا ہے تواسے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہو گا ، اس کے علاوہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں دس ہزارروپے یومیہ جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے ، مزید عام پبلک سے دھوکہ دہی کے الزام میں ایف آئی آر بھی درج ہو سکتی ہے ۔ 

ان معاملات کے سامنے آنے کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے سخت بے چینی کا اظہار کیا ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ آرٹی ایکٹ کی ترمیمی ہدایات 2012ء کے باوجود دینی مدارس کو یہ نوٹس جاری کیا جانا ملت اسلامیہ کو محض اضطراب میں ڈالنے کی سازش ہے ،جمعیۃ  علماء ہند اسے کامیاب نہیں ہو نے دے گی ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جب2010ء میں یہ ایکٹ نافذ العمل ہو ا تو مختلف طبقات کی جانب سے خدشات ظاہر کئے گئے تھے ، جمعیۃ علماء ہند نے اس سلسلے میں وزیر تعلیم کپل سبل سے ملاقات کی اور مدارس سے متعلق درپیش خدشات کو دور کرنے کی گزارش کی ،نیز ہم نے ۵؍اگست ۲۰۱۰ء کو ا نڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں’’ لازمی عصری تعلیم کا چیلنج کانفرنس ‘‘ منعقد کیا ، جس میں کپل سبل ، سلمان خورشید اورکے رحمن خاں شریک ہوئے ۔ جس کے بعد وزیر تعلیم کپل سبل نے ہمارے مطالبات کی روشنی میں باضابطہ ترمیم کرکے مدارس اور مذہبی تعلیمی اداروں کو مستثنی کردیا جوآرٹی ای امینڈمینٹ ایکٹ 2012 نام سے موجود ہے ،جس کی دفعہ 1 کی شق 5میں صاف لکھا ہے کہ اس قانون کی کوئی بات مدرسوں،ویدک پاٹھ شالاؤں اور بنیادی طور سے مذہبی تعلیم مہیا کرانے والے تعلیمی اداروں پر نافذ نہیں ہوگی ۔

مولانا مدنی نے صاف کیا کہ کوئی شخص یا ادارہ ملک کے قانون اور دستورسے بڑھ کر نہیں ہے ، اس لیے دینی اداروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا ۔انھوں نے اتردیش کی سرکار کو متوجہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کرنے والے افسران کے خلاف تادیبی  کارروائی کرے ۔مولانا مدنی نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں کو بھی متوجہ کیا کہ وہ کسی بھی نوٹس پر پریشان نہ ہوں اوراگر کہیں کوئی دشواری پیش آئے تو اپنے علاقےکی مقامی جمعیۃ  یا راست طور سے جمعیۃ  علماء ہند کے دفتر سے رابطہ کریں ، جمعیۃ علما ء ہند ہر طرح کا تعاون پیش کرے گی ۔ انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ آرٹی ای ایکٹ کی ترمیمی ہدایات 2012ء کی کاپی حاصل کرکے اپنے پاس ضرور رکھیں اور متعلقہ افسران سے اعتماد سے بات کریں۔


Share: