نئی دہلی،31؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)’میک ان انڈیا‘جیسے پروگراموں کے ذریعے گرچہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو آمادہ کرنے کی جتنی بھی کوشش کر لے لیکن بدعنوانی اب بھی ہندوستان کی راہ میں روڑا بنی ہوئی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف مسلسل مہم چلائے جانے کے بعد بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے یہ بڑا چیلنج ہے۔رسک مینجمنٹ کے علاقے میں کام کرنے والی امریکی کمپنی کرال نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لئے ہندوستان میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتے وقت بدعنوانی ابھی ایک بڑا چیلنج ہے۔بدعنوانی کے علاوہ سرمایہ کار کمپنی کے آپریشن کے معیار اور اثاثوں کی حفاظت جیسے مسائل کو لے کر بھی غور کرتے ہیں۔مشاورتی فرم نے کہا کہ 2014 میں مستحکم حکومت آنے کے بعد سے سرمایہ کاروں کو اہم تبدیلیوں کی امید تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کرنے والے عوامل میں حکومت کی جانب سے ماضی میں کی گئی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔اس میں خاص طور پر ٹیکس سے متعلق کارروائی، اعلی بے روزگاری کی وجہ سے سماجی بدامنی، ریاستی سطح کی سیاست اور بینکاری نظام وغیرہ شامل ہے۔یہ پوچھے جانے جانے پر کہ نریندر مودی حکومت کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہندوستان سے منسلک خطرات کے تناظر میں کمی آئی ہے، اس پر کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سوئمنگ بھاٹیہ نے مثبت جواب دیا، لیکن آگے کہا کہ اس میں زیادہ کام کیا جا سکتا تھا۔بھاٹیہ نے کہاکہ لوگوں سے کئے گئے وعدوں کے بنیاد پر موجودہ حکومت کو ووٹ ملے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان میں کاروبار میں بڑی تبدیلی کی توقع کر رہے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔