بنگلورو، 28 دسمبر(ایس او نیوز؍محمد فرقان) پوری دنیا میں آج ہندوستانی مسلمان بہت ہی آزمائش اور امتحان کے دور سے گزر رہا ہے۔ ہر کوئی اس مسئلہ کو اپنے طریقے سے حل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔لیکن دن بہ دن حالات اور خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ہمیں کامیابی نہ ملنے کہ وجہ یہ ہیکہ کہ ہم آج دین سے دور ہو چکے ہیں۔ان باتوں کا اظہار خیال مسجد فیض، فیاض آباد بنگلور میں منعقد استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ آج دشمن ہمیں یہ کہکر ڈرا رہا ہیکہ ہم تعلیم میں پیچھے ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کو استعمال نہیں کرتے،چودہ سو سال پرانے طریقوں کو اپناتے ہیں۔ مولانا نے مزید فرماتے ہوئے کہا کہ ان باتوں سے آج کئی علماء بھی احساس کمتری کا شکار ہوچکے ہیں اور عوام تو دین سے دن بہ دن دور ہوتے جا رہی ہے۔ مولانا نے تمام امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تبارک تعالٰی نے قرآن مجید میں سبھ کچھ رکھ دیا ہے۔ ہماری ترقی، ہماری کامیابی، ہماری سر بلندی اور ہماری عزت کلام پاک کے ہی اندر موجود ہے۔مولانا موصوف نے کہاکی اگر کلام پاک سے دوری ہوگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری ہوگی، اسلام سے دوری ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ کوئی شخص چاہے وہ وقت کا حکمران ہو، کوئی منسٹر ہو یا کوئی پوری دنیا میں مشہور ہو لیکن دین اور اسلام کے بغیر اللہ کی نگاہ میں وہ جانور سے بھی بدتر ہے۔
مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ آج مسلمان آخرت کو بھلا چکا ہے، موت کو بھلا چکا ہے۔ مولانا نے سوال کھڑے کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا ہمیں موت نہ آئیگی؟ مرنے کے بعد کیا ہماری جائداد کام آئینگے؟ مولانا نے فرمایا کہ آج مسلمان دین سے اتنا دور ہوچکا کہ اسے حلال اور حرام کی تمیز نہیں، وہ داڑھی منڈوانے کو حرام نہیں سمجھتا، وہ اپنے ماں، بیوی اور بیٹیوں کو زنا کے کپڑے یعنی چست کپڑوں کو پہناکر بازار میں گھوما رہا ہے۔ اسے یہ معلوم نہیں کہ کل قیامت کہ دن اس کا عذاب اسے بھی دیا جائیگا۔ اور مزید فرمایا کہ کل قیامت کے دن جب تمہیں عذاب دیا جائے گا تو تمہاری بیوی اور بیٹی ساتھ نہیں دیگی۔
مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے فرمایا کہ ہندوستان کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے ہیں۔ہمیں اقلیتی کہکر احساس کمتری کا شکار بنایا جارہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہمیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جب تک ہمارے پاس کلمہ طیبہ ہے، ساری دنیا نمرود، شداد، ابو جہل اور فرعونوں سے بھر جائے تو بھی جیت کلمہ طیبہ کی ہوگی۔مولانا نے فرمایا کہ کلمہ کی طاقت کو کم مت سمجھو۔مزید فرمایا کہ وقت پڑنے پر صرف اسلام اور دین کے علاوہ کچھ کام نہیں آئیگا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہندوستان میں آج دجالی نظام برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ حالات ہماری گناہوں کی وجہ سے آرہے ہیں۔ آج وقت ہیکہ کہ ہم اللہ سے توبہ کریں اور اسلام میں پوری طرح سے داخل ہوجائیں۔قابل ذکر ہیکہ مجلس سے پہلے شاہ ملت کا استقبال پھولوں کی بارش سے کیا گیا۔شیر کرناٹک زندہ باد، شاہ ملت زندہ باد، وارث ٹپوسلطان مولانا انظر شاہ قاسمی زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور اللہ اکبر کی صدائیں بھی بلند ہوئی۔مسجد فیض کیامام مولانا محمد رضوان کاشفی نے شاہ ملت کا خیرمقدم کرتے ہوئے استقبال کیا اور شاہ ملت کے دعاؤں سے مجلس کا اختتام ہوا۔