اونا،05؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ہماچل میں انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی پی ایم مودی کی تابڑ توڑ ریلیاں شروع ہو گئی ہیں۔اتوار کو انہوں نے اونا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔پی ایم نے کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ اس بار مزا نہیں آ رہا ہے کیونکہ کانگریس پارٹی میدان چھوڑ کر بھاگ چکی ہے۔کانگریس کی چٹکی لیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ میڈیا میں بھی بی جے پی کے بارے میں ہی لکھا جا رہا ہے، ،ارے بھائی کانگریس کے لیڈر آتے، دھومل نہیں تو مودی پر ہی حملہ کرتے پر اس بار کچھ نظر نہیں آتا۔یہ انتخابات مکمل طور یکطرفہ ہو چکا ہے۔مودی نے کہا کہ عوام کو کانگریس کی نیت کا پتہ چل چکا ہے۔آج عام ووٹر یہ فرق سمجھ رہا ہے کہ کام کرنے والی حکومت کیسی ہوتی ہے اور کمزور حکومت کیسی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب راجیو گاندھی وزیر اعظم ہوا کرتے تھے تو وہ ایک بیان دیتے تھے کہ دہلی سے 1روپیہ نکلتا ہے تو گاؤں میں جاتے جاتے 15 پیسے رہ جاتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کون ساپنجہ تھا جو روپے کو گھس دیتا تھا۔ملک کی آزادی سے لے کر کانگریس پارٹی سب سے زیادہ وقت تک اقتدار میں رہی ہے مگر اس کا حل نہیں تلاش کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ راجیو گاندھی نے بیماری بتائی پر اس کا علاج نہیں کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دہلی سے 1 روپے نکلے گا تو غریب کی جیب میں پورے 100 پیسے پہنچیں گے۔اب کوئی بھی پنجہ غریب کے حق کو نہیں چھین سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم روز صفائی کر رہے ہیں اور بدعنوانی کی گندگی نکال رہے ہیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آدھارسے لوگوں کے اکاونٹس کو جوڑدیا گیا اور اس سے کروڑوں روپے کی بچت ہوئی۔اس سے پہلے تک فرضی ٹیچر تنخواہ لے رہے تھے اور بیوہ پنشن مل رہی تھی۔اب یہ بند ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 20 سال میں ہماچل کے تمام انتخابات سے میرا تعلق رہا ہے۔صاف پتہ چل جاتا ہے کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے مگر ہماچل میں ہوا نہیں بی جے پی کی آندھی چل رہی ہے۔کرپشن، قانون کے نظام کو لے کر لوگوں میں کافی غصہ ہے۔اس بار الیکشن عوام لڑ رہی ہے۔مودی نے کہا کہ پہلے 57ہزار کروڑ روپے بچولئے کھا جاتے تھے، ہم نے اس پر تالا لگا دیا۔انہوں نے مضحکہ خیز لہجے میں کہا کہ گھر میں کھچڑی کچی رہ جاتی ہے تو لوگ مودی پر ناراض ہوتے ہیں کیونکہ ان کی دکانیں بند ہو گئی ہیں۔پی ایم نے دعوی کیا کہ ملک میں ترقی پر ہی بحث ہونی چاہئے۔ کسی بھی تاجر تنظیم نے جی ایس ٹی کی مخالفت نہیں کی۔پہلے چھوٹے تاجر کو سب سے زیادہ پریشانی ہوتی تھی۔پہلے ٹرک کئی دن کھڑے رہتے تھے، جی ایس ٹی کی وجہ مال ڈھونے کا خرچہ کم ہوا ہے۔اس سے عام لوگوں کو راحت ہوئی ہے۔پی ایم نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد گزشتہ ماہ ہوئی میٹنگ میں تمام مسائل کو حل کیا گیا۔جو مسائل بچے ہیں9-10 تاریخ کو جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں اسے بھی دور کر دیا جائے گا۔