ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہریانہ:کھٹرحکومت نے3.8لاکھ روپے میں خریدی 10بھگوت گیتا

ہریانہ:کھٹرحکومت نے3.8لاکھ روپے میں خریدی 10بھگوت گیتا

Wed, 10 Jan 2018 00:36:11    S.O. News Service

ہیمامالنی کو20اوردہلی بی جے پی کے صدرمنوج تیواری کو10لاکھ روپے ملے، اپوزیشن نے گھیرا،گیتا کے نام پر بھی چوری، اوپرسے سینہ زوری
چنڈی گڑی،9؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ہریانہ میں بھگوت گیتا جینتی فیسٹیول 2017کے موقع پر ریاستی حکومت پر کروڑ وں روپے خرچ کرنے پرسوال اٹھ رہے ہیں۔25نومبر سے 5دسمبر کے درمیان منعقدہ اس تہوار میں کتناپیسہ لگا؟اس کاخلاصہ ایک آر ٹی آئی میں ہوا۔ آر ٹی آئی کے ذریعے خلاصہ ہوا ہے کہ ہریانہ کی منوہر لال کھٹر حکومت نے بھگوت گیتا کی 10کاپیاں خریدنے کے لیے تقریباََ3.8لاکھ روپئے خرچ ہوئے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کتاب کو خریدنے کے لئے مجموعی طور پر 38000روپے خرچ کئے۔اس خلاصے کے بعد کھٹر حکومت ایک بارپھر سوالات کے گھیرے اور اپوزیشن پارٹیوں کے نشانے پر آگئی ہے۔دریں اثناانڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی)نے ہریانہ میں بی جے پی حکومت کوگھیرناشروع کر دیا ہے۔آئی این ایل ڈی کے لیڈر اور لوک سبھا کے رکن دشینت چوٹالہ نے ٹویٹ کیا کہ کھٹر حکومت نے بھگوت گیتا جیتنی میں گیتا کی دس کاپیاں 3.8لاکھ روپے میں خریدی۔اس کے مطابق ایک بھگوت گیتا کی قیمت تقریباََ38ہزار روپے ہے،واہ نریندر مودی، ہریانہ میں ایماندار حکومت کیسی ہے،چونکہ گیتا کے نام پر بھی چوری، اوپرسے سینازوری۔انڈیا ٹوڈے کے مطابق ایم پی دشینت چوٹالہ نے کہا کہ بھگوت گیتا آن لائن اورگیتاپریس میں بہت کم قیمت پر دستیاب ہے۔وزیر اعلی منوہر لال کھٹر سرکارکو صفائی دینی چاہئے کہ گیتا اتنی زیادہ قیمت پرکیوں خریدی گئی۔اس آرٹی آئی میں اس بات کابھی خلاصہ ہواہے کہ اس پروگرام میں دو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ممبران پارلیمنٹ کو بھی پیسے دیئے گئے ہیں۔ایم پی ہیما مالینی کو 20لاکھ روپیہ دیا گیا تھا اور دہلی بی جے پی کے صدر اور لوک سبھا کے ممبرمنوج تیواری کو10لاکھ روپیہ دیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق چوٹالا نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ اس کی حکومت نے فساد پر صفر رواداری کی پالیسی کو اپنایا ہے لیکن ان کے ممبران کو بہت سارے پیسے دئے جا رہے ہیں اور یہ بھی ایک مذہبی پروگرام کے لئے۔ چوٹالہ نے کہا کہ کھڑ حکومت نے اس پروگرام میں کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ بھوپندر سنگھ ہڈا حکومت نے چند لاکھوں میں اس کاانعقاد کردیتی تھی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہریانہ حکومت اس معاملے پر کوئی انکوائری نہیں کرتی تو میں سی اے جی سے شکایت کروں گا۔آرٹی آئی میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2016میں برہم سرورو کی مرمت میں 1کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ اس کی صرف 38لاکھ روپے میں مرمت کردی گئی تھی۔آئی این ایل ڈی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی نے قریبیوں کو کنٹریکٹ دینے کا کام کیا ہے۔وہیں ہریانہ حکومت نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ہریانہ کے وزیر صحت انیل ویج کا کہنا ہے کہ گیتا فیسٹیول ایک بین الاقوامی پرگرام تھا۔انہوں نے کہاکہ ہم اس معاملے میں انکوائری کاحکم دیں گے اور اگر کوئی افسر مجرم پایا جائے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


Share: