چنڈی گڑھ،22؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی زیر قیادت ریاست ہریانہ میں عصمت دری کے واقعات رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔گزشتہ چند دنوں میں ریاست کے مختلف اضلاع میں گینگ ریپ اور قتل کے واقعات نے خواتین کی حفاظت کے تئیں پولیس کے دعوی کی پول کھول دی ہے۔ہریانہ کے مسلسل ہورہے عصمت دری کے واقعات نے ریاست ہی نہیں پورے ملک کو ہلاکررکھ دیا ہے۔ہریانہ کے بعد جیند، پانی پت، پنجور اور ملک کی راجدھانی دہلی سے ملحق فرید آباد، گرگرام میں ریپ کا واقعہ سامنے آنے کے بعد لوگ غصے میں ہیں۔دریں اثنا بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی)کی ایم پی اور اداکارہ کر ن کھیرنے کہا کہ ایسے واقعات ہمیشہ سے ہوتے آ رہے ہیں۔ ہریانہ میں مسلسل ہو رہے ریپ کے واقعات پر چندی گڑھ سے بی جے پی کی ایم پی کرن کھیر نے کہا کہ ایسے واقعات ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں، صرف مائنڈسیٹ تبدیلی لا سکتی ہے، خاندان سے ہی سماج بدلناشروع ہوتاہے۔ بتادیں کہ چند دن قبل ہریانہ پولیس کے اے ڈی جی پی نے شرمناک طور پرریپ کومعاشرے کا حصہ بتایا تھا۔ہریانہ پولیس کے اے ڈی جی پی آرسی مشرا نے کہا تھا کہ ریپ سوسائٹی کا حصہ ہے۔اس طرح کے واقعات آج سے نہیں ایک طویل وقت سے ہورہے ہیں۔آپ کو بتادیں کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بی جے پی کی ایم پی کرن کھیر نے ریپ کے واقعے پر متنازعہ بیان دیا ہے۔اس سے پہلے چندی گڑھ گینگ ریپ معاملے پربھی کرن کھیر نے متنازعہ بیان دیاتھا۔انہوں نے گینگ ریپ کی متاثرہ کو نصیحت دیتے ہوئے کہاتھا کہ متاثرہ کو بھی خیال رکھنا چاہئے۔بی جے پی لیڈر نے مزید کہا کہ ہم لوگ جب ممبئی میں ٹیکسی میں بیٹھتے تھے، اگر ہمیں کوئی چھوڑنے آتا تھا تو ہم اسے ٹیکسی کا نمبر لکھا دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب تو موبائل فون ہیں، لڑکیوں کو آٹو پکڑتے وقت اس کا نمبر نوٹ کرکے گھروالوں کومیسج کردیناچاہئے ،اس سے آٹووالے لوگوں میں دل میں خوف رہے گا۔اگرچہ بیان پر تنازعہ بڑھنے کے بعد کرن کھیر نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ زمانہ بہت خراب ہے، بچیوں کو احتیاط برتنا چاہئے،اگر چنڈی گڑھ پولیس پی سی آر بھیجتی ہے ،اگرکوئی لڑکی رات 100نمبرپر فون کرتی ہے تواس سیاست نہیں جوڑنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ لعنت پران پرجو لوگ اس پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔آپ کے گھر میں بھی بچیاں ہیں، آپ کوبھی میری طرح مثبت بات کرنی چاہئے۔