بنگلورو۔8؍اکتوبر(ایس اونیوز) شہر کے بلندور علاقہ میں زیر تعمیر پانچ منزلہ عمارت کے منہدم ہوجانے اور اس کے ملبے میں دب کر چھ افراد کے ہلاک ہوجانے کے واقعہ کی ابتدائی جانچ کے مرحلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس عمارت کی تہہ میں موجود ایک کنویں کو ٹھیک طرح سے بند نہ کئے جانے اور عمارت کی تعمیر کیلئے فلر ریت استعمال کئے جانے کے نتیجہ میں یہ عمارت گر پڑی۔ اس سلسلے میں بی بی ایم پی اور دیگر ایجنسیوں کی طرف سے جارج جانچ کے دوران کئی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اس عمارت کی تعمیر سے قبل اس زمین کے صحن میں ایک پرانا کنواں موجود تھا ، جس کو پوری طرح بند نہیں کیا گیاتھا۔پہلے ہی انجینئروں کی طرف سے مالکان کو متنبہ کیاگیا تھاکہ اس کنوئیں کو سائنٹفک طریقے سے بند کرنے کے انتظامات کئے جائیں ، لیکن عمارت کے مالکان نے اسے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تعمیر کاکام آگے بڑھادیا۔اس کے ساتھ ہی عمارت کے ستونوں اور بیمس کی تعمیر کیلئے گھٹیا معیار کی فلر ریت استعمال کی گئی ، جس کی وجہ سے عمارت ٹک نہیں پائی۔ چونکہ اس عمارت کی تعمیر کیلئے جو پارٹنر شپ بنی ہوئی تھی اس کے تمام پارٹنرس الگ الگ علاقوں سے تھے اور کام کی نگرانی ٹھیک طرح سے نہیں ہورہی تھی، عمارت کیلئے جو چھت مسلسل بنائی جارہی تھی، اس کی بروقت کیورنگ نہیں کی گئی ہے۔ بی بی ایم پی ذرائع نے بتایاکہ ان تمام تفصیلات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جلد ہی حکومت کو پیش کی جارہی ہے۔یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہاں صرف تین منزلہ عمارت کی تعمیر کیلئے بی بی ایم پی نے اجازت دی تھی ، لیکن عمارت کے مالک سرینواس ریڈی نے بی بی ایم پی کی اجازت کے بغیر یہاں پر پانچ منزلہ عمارت کی پہل کی ۔ اور آخر کار یہ حادثہ رونما ہوا۔