بنگلورو8ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) معروف سینئر خاتون صحافی گوری لنکیش کے قتل کو لے کر بی جے پی لیڈر نے ایک ایسا بیان دیا ہے ، جس کی وجہ سے اب پارٹی کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔گرچہ قتل کے بعدجس طرح قتل کوجسٹیفائیڈکرنے کی کوشش بی جے پی ہمنواؤں کی طرف سے ہورہی ہے اس سے وہ پہلے سے ہی نشانہ پرہے۔چک منگلور ضلع کے شرنگیری سے رکن اسمبلی جیو راج نے کہا ہے کہ لنکیش زندہ ہوتیں اگر انہوں نے آر ایس ایس کے خلاف نہ لکھا ہوتا ۔
بی جے پی رکن اسمبلی نے کوپا میں پارٹی کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر گوری لنکیش نے آر ایس ایس کارکنان کی موت کا جشن منانے پر نہیں لکھا ہوتا تو آج شاید وہ زندہ ہوتی ۔ جیواراج نے کہا کہ کانگریس حکومت بننے کے بعد کرناٹک میں بی جے پی اور ہندو تنظیموں کے گیارہ لیڈروں کا قتل ہوچکا ہے ۔ اگر گوری نے ان قتل کی مذمت کی ہوتی اور سدا رمیا حکومت کی تنقید کی ہوتی تو کیا آپ کو نہیں لگتا ہے آج وہ زندہ ہوتی ۔ گوری لنکیش نے اپنی میگزین میں لکھا کہ آر ایس ایس کا قتل اگر وہ ایسا نہیں لکھتی تو آج شاید وہ زندہ ہوتی ۔ گوری بہن کی طرح تھی ، لیکن جس طرح سے انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف لکھا وہ ناقابل قبول تھا ۔بی جے پی لیڈر کی اس بیان کے بعد پارٹی چوطرفہ تنقید کی زد میں آگئی ہے ۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ نے بی جے پی سے سوال کیا ہے کہ اس بیان کا آخر کیا مطلب ہے ۔ کیا یہ بیان قاتلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ گوری لنکیش کے اہل خانہ نے بھی اس بیان کی شدید مذمت کی ۔ خیال رہے کہ نامعلوم افراد نے گوری لنکیش کا منگل کی رات کو ان کے گھر پر گولیاں برسا کر قتل کردیاتھا۔