نئی دہلی/گریٹر نوئیڈا (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا ایک اپنا گھر ہواور وہ ہنسی خوشی زندگی گزار سکے اور عموماًیہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کو بنانے میں ایک گھر بنا نے میں پوری زندگی ہی ختم ہو جاتی ہے لیکن ان کے خوابوں کا آشیانہ نہیں بن پاتا، اسی چیز کا فائدہ اٹھا کر بلڈر لابی کے لوگ خریداروں کے جذبات واحساسات سے کھیلتے ہیں۔البتہ کوالٹی کے نام پراور چند پیسوں کی وجہ سے لوگوں کے جان و مال سے کھلواڑ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اسی طرح کا معاملہ گریٹر نوئیڈا کے ایکو ولیج 1میں سامنے آیا ہے جس میں معروف بلڈنگ صنعتکار ’سپر ٹیک‘کمپنی نے لوگوں کو ٹھگا ہے اور ہر طرح سے وہ فلیٹ خریداروں کوبے وقوف بناتاجارہاہے۔ محمدیاسین (فلیٹ خریدار) کے مطابق انہوں نے 2010 میں ’سپر ٹیک‘سے فلیٹ خریدا تھا جس کا مالکانہ حق ان کودسمبر2013 میں دئے جانے کی بات کہی گئی تھی، لیکن آج اس بات کو 4 سال ہونے والے ہیں ابھی تک مالکانہ حق نہیں مل پایا ہے، جبکہ اب تک اس کے لئے 95فیصد پیسے دیے جا چکے ہیں لیکن پھر بھی مالکانہ حق دینے میں بلڈر پریشان وتنگ کررہے ہیں۔اقبال حسین خان جو خود ایک سول انجینئر ہیں وہ بھی اسی طرح سے گزشتہ 4 سال سے پریشان ہیں انہوں نے بتایا کہ جس طرح بلڈر کا رویہ ہے اس سے تو لگتا ہے کہ 2018 میں بھی ہمیں ہمیں فلیٹ ملنا مشکل ہے۔ 2010 میں جب ہم نے آپ کے گھر کے لئے بکنگ کی تھی تو بہت اچھے سے ہمیں ٹریٹ کیا گیا باقاعدہ لنچ کے لئے تمام خریداروں کو بلایا گیا تھااور320 لوگوں نے مل کر یہاں فلیٹ خریدے تھے لیکن ابھی تک کسی کو بھی مالکانہ حق نہیں دیا گیا ہر بار وہ 2 سے 3 ماہ کا ٹائم لے کر ہمیں بار بار لٹکایا جا رہا ہے لیکن اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ہمیں 3 ماہ کے اندر مالکانہ حق نہیں ملتا ہے تو ہم صارفین انصاف قانون، حکومت اور عدالت میں اس معاملے کو لیکر جائیں گے۔کاظم ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ’سپرٹیک‘ نامی کمپنی سے ہمیں یہ امید نہیں تھی، مگر جس طرح سے اس نے ہمیں طرح طرح سے پریشان کیا ہے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہماری پوری ٹیم اس کے خلاف عدالت کا رجوع کریں گے اور انصاف کی گہارلگائیں گے۔