ممبئی،3؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پونے کے بھیماکورے گاؤں میں پیر کے روزتشدد میں 28 سالہ راہل فٹانگلے کی موت ہوگئی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ راہل اپنے گھر موٹر سائیکل سے لوٹ رہا تھا، تبھی اچانک تشدد بھڑبھڑکا، وہ کچھ سمجھ پاتاتبھی پتھراؤہوگیا۔ وہ فرار ہونے کے لئے کہیں چھپتااس سے پہلے ایک پتھر اس کے سر پر آکرلگا اور وہ مر گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق راہل کا اس نسلی تنازعات سے کچھ لینادینانہیں تھا، وہ ہر دن کی طرح اپنے گیراج سے واپس آ رہاتھا، تو یہ ایک حادثہ ہوگیا۔بتادیں کہ راہل کے والد باباجی اور والدہ جانابائی کسان ہیں، وہ کورے گاؤں بامی سے 25 کلومیٹر دور دھول پواڑی گاؤں میں رہتے ہیں۔ اس کے خاندان کے ارکان نے بتایا کہ راہل نے پونے کے چندن نگر میں ایک گیراج کھولاتھا اور سنس واڑی میں ایک کرایہ کی رہائش گاہ میں رہتا تھا، ہر چند دن میں وہ گھرآتاجاتارہتاتھا۔راہل کے بھائی تشرار نے بتایا کہ ہم مراٹھا کمیونٹی سے ہیں لیکن ہم بھیما۔کورے گاؤں کے تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ہیں، ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پونے میں ایسا واقعہ ہو رہا ہے۔ راہل اپنا گیراج کھولنے کے لئے چندر نگر گیا، شام میں وہ سنس واڑی سے ہی آ رہے تھے، پھر تشدد بھڑک گیا۔ہم گھر آنے کے منتظر تھے، وہ پارٹ ٹائم جاب بھی کرتے تھے، لہذا ہم نے سوچا کہ وہ گھر آئیں گے، تبھی پولیس اور کچھ پڑوسیوں کا راہل کے نمبر سے فون آیا۔انہوں نے بتایا کہ راہل کی سنن واڑی میں پتھر لگنے سے موت ہوگئی، انہیں پونے کے سوسن ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے کہا کہ سر میں چوٹ کی وجہ سے، وہ مر گیا۔بتادیں کہ مہاراشٹر دیویندر فڑنویس نے راہل کے خاندان کے لیے 10 لاکھ روپے کا اعلان کیا، تاہم اب تک راہل کے خاندان کو کوئی مدد نہیں ملی ہے۔