ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات نتائج کا کرناٹک پر اثر نہیں ہوگا؛ گجراتی عوام نے راہول گاندھی کی قیادت کو پسند کیا ہے؛ وزیراعلیٰ سدرامیا کا بیان

گجرات نتائج کا کرناٹک پر اثر نہیں ہوگا؛ گجراتی عوام نے راہول گاندھی کی قیادت کو پسند کیا ہے؛ وزیراعلیٰ سدرامیا کا بیان

Tue, 19 Dec 2017 00:47:09    S.O. News Service

بنگلور 18/ڈسمبر (ایس او نیوز) کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدا رامیا نے آج کہا کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج کا ریاست میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یادگیر میں اخبارنویسوںسے گفتگو  کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ایک ریاست کے انتخابی نتائج کا دوسری ریاست کے انتخابات پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ہر ریاست میں مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ گجرات میں نتائج چاہے جو کچھ بھی رہیں ہوں،  ان کا کرناٹک پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔

سدرامیا نے پورے عزم کے ساتھ کہا کہ  ریاست میں پارٹی کی کامیابی کو یقینی بناتے ہوئے کرناٹک کی جانب سے کانگریس کے نو نامزد صدر راہول گاندھی کو پہلا تحفہ دیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے خلاف ریاست میں کوئی مخالف  لہر نہیں چل رہی ہے  اگر ایسا ہوتا تو کانگریس کو ننجن گڈھ اور گنڈلو پیٹ ضمنی انتخابات میں مشکل پیش آتی ۔ ان دونوں حلقوں میں پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ 2018 میں ہم یقینی طور پر اقتدار پر برقرار رہیں گے ۔

کانگریس پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں سدارامیا پارٹی کے وزارت اعلی امیدوار ہونگے ۔ گجرات میں بی جے پی کی کارکردگی پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخالف حکومت لہر اور شدت کی انتخابی مہم کے باوجود جو نتائج آئے ہیں وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے ظاہر کئے جانے والے شبہات کو تقویت بخشتے ہیں۔ ان اندیشوں کا اظہار کرتے ہوئے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے سدارامیا نے حال ہی میں مطالبہ کیا تھا کہ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات بیالٹ پیپر پر کروائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش میں کانگریس کے خلاف مخالف حکومت لہر تھی جبکہ گجرات میں وزیر اعظم نریندرمودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ نے ان انتخابات کو وقار کا مسئلہ بنالیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور امیت شاہ کی جانب سے گجرات کے وقار کا کارڈ کھیلا گیا تھا جو بی جے پی کے حق میں کارکرد رہا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے اپنے گجرات سے تعلق کی دہائی دی تھی اور شائد یہی وجہ ہے کہ یہ نعرہ پارٹی کے حق میں کارگر ثابت ہوا ہو ۔انہوں نے واضح کیا کہ نتائج جو سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے اس کیلئے کانگریس صدر راہول گاندھی کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ گجرات میں ہم نے شکست کے باوجود کامیابی حاصل کی ہے ۔ عوام نے راہول گاندھی کی قیادت کی تائید کی ہے ۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ مودی اور امیت شاہ کا گجرات سے تعلق ہے اور گجرات اور مرکز میں بی جے پی ہی کا اقتدار ہے اور ان حقائق سے بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی رائے دہندوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے میں یقین رکھتی ہے ۔ پارٹی کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلاتے ہوئے کرناٹک میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے جس کا مقصد رائے دہندوں کو منقسم کرنا ہے لیکن ریاست میں ایسا نہیں ہوگا ۔

بی جے پی نے گجرات میں مسلسل چھٹی مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے ہماچل پردیش میں بھی کانگریس سے اقتدار چھین لیا ہے ۔


Share: