کاروار، یکم / جون (ایس او نیوز) لوک سبھا انتخابی نتائج کا پٹارا حالانکہ 4 جون کو کھلنے والا ہے ، مگر ملک کے دیگر حصوں کی طرح ضلع اتر کنڑا میں بھی کچھ بڑے اور اہم سیاسی لیڈروں کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی ہیں اور اپنے سیاسی مسقتبل کی فکر ان کی نیندیں حرام کر رہی ہے ۔
اگر ہم کینرا سیٹ کی بات کریں تو یہاں بی جے پی اور کانگریس کی براہ راست ٹکر ہے اور سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے امیدواروں کی جیت یا ہار سے تین بڑے سیاسی لیڈر بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں ۔ مثلاً اگر بی جے پی کے امیدوار وشویشورا ہیگڑے کاگیری اگر جیت جاتے ہیں تو اس سے بہت بڑا نقصان حالیہ رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڑے کو ہونے والا ہے ۔ کیونکہ اننت کمار کی طرف سے تمام کوششوں اور چالاکیوں کے بعد بھی کاگیری کی جیت سے پارٹی ہائی کمان کے ساتھ ضلع کے بی جے پی کارکنان اور لیڈران کا اعتماد مضبوط ہو جائے گا کہ اننت کمار کے بغیر بھی بی جے پی اپنے بل بوتے پر ہی کینرا سیٹ جیت سکتی ہے ۔ اننت کمار ہیگڑے کی حمایت یا مخالفت سے کوئی اثر نہیں پڑتا اور آئندہ ہیگڑے کی ناراضگی، شیخی اور وزیر اعظم نریندرا مودی سمیت کسی کو بھی خاطر میں نہ لانے والے نخرے برداشت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اسی کے ساتھ اننت کمار ہیگڑے کی سیاسی کنارہ کشی کے دن شروع ہو سکتے ہیں ۔
اگر بالفرض اننت کمار ہیگڑے کی جانب سے وشویشورا ہیگڑے کاگیری کے خلاف اپنایا گیا رویہ کامیاب ہوتا ہے اور کاگیری کو شکست ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ اننت کمار ہیگڑے کا دماغ ساتویں آسمان پر ہوگا اور اس کا یقین اور مضبوط ہو جائے گا کہ اتر کنڑا میں اگر اننت کمار ہیگڑے نہیں ہے تو پھر بی جے پی کی بھی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ پھر اس کے بعد جو اننت کمار کی جو تانا شاہی شروع ہوگی اس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑے گا ۔
دوسری طرف اگر کانگریس پارٹی کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہاں سابق وزیر، موجودہ رکن اسمبلی اور ایڈمنسٹریٹیو ریفارمس کمیشن کے چیر پرسن آر وی دیشپانڈے اور ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا کا سیاسی مستقبل کانگریسی امیدوار ڈاکٹر انجلی نمبالکر کی جیت یا ہار سے جڑا ہوا ہے ۔ اگر ڈاکٹر انجلی جیت جاتی ہیں تو اس کا بڑا سہرا آر وی دیشپانڈے کے حصے میں جائے گا اور وہ آنے والے دنوں میں پارٹی کے اندر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوں گے اور اس کا پورا فائدہ انہیں مستقبل قریب میں ضرور حاصل ہوگا ۔ اور اگر بالفرض پارٹی امیدوار کو شکست ہوتی ہے تو دیپشانڈے گروپ کی طرف سے اس کا ٹھیکرا منکال وئیدیا کے سر پھوڑنا یقینی ہے ۔
اسی طرح ڈاکٹر انجلی کی جیت سے منکال وئیدیا اپنا وزارتی قلمدان بچانے میں کامیاب رہیں گے کیونکہ پارٹی کی طرف سے انتخابی موسم کے اوائل میں ہی یہ سگنل دیا جا چکا ہے کہ اگر کسی ضلع میں پارٹی کا امیدوار ہار جاتا ہے تو پھر اس کا خیمازہ اس ضلع کے انچارج وزیر اور وہاں کے قائدین کو بھگتنا ہوگا ۔ اس کا مطلب یہی سمجھا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر انجلی کی شکست کی صورت میں منکال وئیدیا کے ہاتھوں سے وزارتی قلمدان پھسلنا یقینی ہے ۔ ڈاکٹر انجلی کی شکست کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں آر وی دیشپانڈے کی لاٹری نکل سکتی ہے اور وہ پھر ایک مرتبہ ضلع انچارج کا منصب پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔
کینرا لوک سبھا سیٹ کا نتیجہ کس کے حق میں اور کس کس کے خلاف نکلے گا یہ دیکھنے کے لئے بس 4 جون تک ذرا سا انتظار ضروری ہے ۔