بنگلورو،17؍جنوری(ایس او نیوز)نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی بی جے پی حکومت بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگاتی ہے۔ ان دونوں منصوبوں کو حقیقی طور پر عملی شکل دینے والے آنگن واڑی،آشا اور مڈ ڈے میل کے کارکن ہیں۔اس کے باوجود ان کارکنوں کو نظرانداز کیا جارہاہے۔ان خیالات کااظہار کرناٹک اکشرا داسوہاملازمین سنگھا کی صدر ایس ورلکشمی نے کیا۔ آئی سی ڈی ایس منصوبہ کو فراہم ہورہی مرکزی امداد میں کی گئی کمی سمیت دیگر مطالبات کی تکمیل کے لئے آنگن واڑی،آشا اور مڈ ڈے میل کے کارکنان نے آج بنگلورو کے ساؤتھ اینڈسرکل میں واقع مرکزی وزیر کھاد اننت کمار کے دفتر کے قریب دھرنا دیتے ہوئے احتجاج کیا۔
احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ورلکشمی نے کہا کہ ملک بھرمیں بچوں کو نقص تغذیہ کے مسائل سے محفوظ بنانے کے لئے کروڑوں روپئے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن اب مرکزی حکومت کی جانب سے لائے جارہے نئے منصوبے کے تحت تغدیہ بخش غذائی فراہمی کے بجائے بچوں کے والدین کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم منتقل کی جائے گی۔ اس طرح اکاؤنٹ میں ڈالی گئی رقم کو کتنے والدین اپنے بچوں کوطاقت بخش غذا فراہم کرنے کے لئے استعمال کریں گے ؟ اگر یہ منصوبہ نافذ ہوگیا تو بچوں کو نقص تغذیہ کے مسائل سے بچانا مشکل ہوگا۔ آنگن واڑی کارکنان کوماہانہ 10ہزار روپئے تنخواہ فراہمی کامطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ سال رات بھر منظم احتجاج کرنے والی ورلکشمی نے کہاکہ مرکزی منصوبے سے آنگن واڑی ، آشا اور مڈ ڈے میل کارکان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ منصوبہ ان کو بے روزگار کرنے کی مانند ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے تئیں ہماری حمیت حقیقی ہے ۔ ملک کی ماؤں اوربچوں کی نگہداشت ہم کرتے رہیں گے ۔تمہاری طرح زبانی محبت ہماری نہیں ہے ۔ مرکز میں برسراقتدار پارٹی کے اراکین ہمیشہ دیش بھگتی کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن ان کی دیش بھگتی حقیقی نہیں ہے ۔ ہماری محبت حقیقی ہے۔ ہم یہاں کی ماؤں اور بچوں کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ملک کی حقیقی خدمت کرنے والے آنگن واڑی ورکر اور آشا کارکنان کے ساتھ مرکزی حکومت سوتیلا سلوک کررہی ہے ۔ ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ملک کے لئے ہم ساری خدمات فراہم کررہے ہیں ۔حکومت کی بہت ساری اسکیموں کوجاری کرنے کے لئے آنگن واڑی ورکرس، آشا کارکن اور مڈ ڈے میل اہلکاروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔پلس پولیو خوراک فراہمی کا وقت قریب ہے ۔ لاروا سروے ہے اور انتخابات قریب ہیں ۔ان تمام کاموں کے لئے ہماری ضرورت ہے ۔ ہم تمہارے ہاتھ کے نیچے کام کرنے والے بنے ہوئے ہیں لیکن ہم کو عام ملازمین کادرجہ تک نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ مالدار طبقہ اپنے ایک بچہ کی پرورش بھی نہیں کرسکتا۔ بچہ کی نگہداشت کے لئے آیا کی خدمت لیتے ہیں۔لیکن ہم آنگن واڑی کارکنان جملہ 20تا 30بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ ان کا بول و براز صاف کرتے ہیں ۔حاملہ اور زچہ خواتین کے گھر تک جا کر ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔اس کے باوجود ہماری تنخواہ مرکزی وزیر برائے بہبودی و خواتین اطفال مینکاگاندھی کے گھر کی رکھوالی کررہے کتے کے اخراجات سے بھی کم ہے۔کیاہم تمہارے گھر کے کتوں سے بھی گئے گزرے ہیں ؟
انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت سب کا ساتھ سب کاوکاس کہتی ہیں ۔ کیا اس وکاس میں ہمارا شمار نہیں ہے۔ آنگن واڑی کو غریبوں کے بچے آتے ہیں، مالدار کے بچے نہیں ۔ کارکنان کے طور پر محنت کرنے والی خواتین ہیں لیکن مرکزی حکومت کے فیصلے سے غریب مزیدغریب اور صحت کے مسائل سے دوچار ہورہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کے وکاس میں صرف مالدار افراد کی ہی گنجائش ہے ۔ مینکاگاندھی کی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مینکا گاندھی کا سنسد میں دیا گیا بیان جھوٹا ہے ۔مینکا گاندھی نے سنسد میں کہا تھا کہ آنگن واڑی کارکنان صرف نوکر ہیں ۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کی کوئی تجویز نہیں۔ جبکہ بہت ساری کمیٹیاں ہماری تنخواہوں میں اضافہ کی تجاویز رکھتی ہیں ۔اس لئے ان کاجواب جھوٹا اور من گھڑت ہے ۔ان خیالات کااظہار کرناٹک اکشرا داسوہاملازمین سنگھا کی صدر ایس ورلکشمی نے کیا۔ آئی سی ڈی ایس منصوبہ کو فراہم ہورہی مرکزی امداد میں کی گئی کمی سمیت دیگر مطالبات کی تکمیل کے لئے آنگن واڑی،آشا اور مڈ ڈے میل کے کارکنان نے آج شہر کے ساؤتھ اینڈسرکل میں واقع مرکزی وزیر کھاد اننت کمار کے دفتر کے قریب دھرنا دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ورلکشمی نے کہا کہ ملک بھرمیں بچوں کو نقص تغذیہ کے مسائل سے محفوظ بنانے کے لئے کروڑوں روپئے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن اب مرکزی حکومت کی جانب سے لائے جارہے نئے منصوبے کے تحت تغدیہ بخش غذائی فراہمی کے بجائے بچوں کے والدین کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم منتقل کی جائے گی۔ اس طرح اکاؤنٹ میں ڈالی گئی رقم کو کتنے والدین اپنے بچوں کوطاقت بخش غذا فراہم کرنے کے لئے استعمال کریں گے ؟ اگر یہ منصوبہ نافذ ہوگیا تو بچوں کو نقص تغذیہ کے مسائل سے بچانا مشکل ہوگا۔ آنگن واڑی کارکنان کوماہانہ 10ہزار روپئے تنخواہ فراہمی کامطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ سال رات بھر منظم احتجاج کرنے والی ورلکشمی نے کہاکہ مرکزی منصوبے سے آنگن واڑی ، آشا اور مڈ ڈے میل کارکان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ منصوبہ ان کو بے روزگار کرنے کی مانند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تئیں ہماری حمیت حقیقی ہے ۔ ملک کی ماؤں اوربچوں کی نگہداشت ہم کرتے رہیں گے ۔تمہاری طرح زبانی محبت ہماری نہیں ہے ۔ مرکز میں برسراقتدار پارٹی کے اراکین ہمیشہ دیش بھگتی کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن ان کی دیش بھگتی حقیقی نہیں ہے ۔ ہماری محبت حقیقی ہے۔ ہم یہاں کی ماؤں اور بچوں کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ملک کی حقیقی خدمت کرنے والے آنگن واڑی ورکر اور آشا کارکنان کے ساتھ مرکزی حکومت سوتیلا سلوک کررہی ہے ۔ ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ملک کے لئے ہم ساری خدمات فراہم کررہے ہیں ۔حکومت کی بہت ساری اسکیموں کوجاری کرنے کے لئے آنگن واڑی ورکرس، آشا کارکن اور مڈ ڈے میل اہلکاروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔پلس پولیو خوراک فراہمی کا وقت قریب ہے ۔ لاروا سروے ہے اور انتخابات قریب ہیں ۔ان تمام کاموں کے لئے ہماری ضرورت ہے ۔ ہم تمہارے ہاتھ کے نیچے کام کرنے والے بنے ہوئے ہیں لیکن ہم کو عام ملازمین کادرجہ تک نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ مالدار طبقہ اپنے ایک بچہ کی پرورش بھی نہیں کرسکتا۔ بچہ کی نگہداشت کے لئے آیا کی خدمت لیتے ہیں۔لیکن ہم آنگن واڑی کارکنان جملہ 20تا 30بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ ان کا بول و براز صاف کرتے ہیں ۔حاملہ اور زچہ خواتین کے گھر تک جا کر ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔اس کے باوجود ہماری تنخواہ مرکزی وزیر برائے بہبودی و خواتین اطفال مینکاگاندھی کے گھر کی رکھوالی کررہے کتے کے اخراجات سے بھی کم ہے۔کیاہم تمہارے گھر کے کتوں سے بھی گئے گزرے ہیں ؟ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت سب کا ساتھ سب کاوکاس کہتی ہیں ۔ کیا اس وکاس میں ہمارا شمار نہیں ہے۔ آنگن واڑی کو غریبوں کے بچے آتے ہیں، مالدار کے بچے نہیں ۔ کارکنان کے طور پر محنت کرنے والی خواتین ہیں لیکن مرکزی حکومت کے فیصلے سے غریب مزیدغریب اور صحت کے مسائل سے دوچار ہورہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کے وکاس میں صرف مالدار افراد کی ہی گنجائش ہے ۔
مینکاگاندھی کی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مینکا گاندھی کا سنسد میں دیا گیا بیان جھوٹا ہے ۔مینکا گاندھی نے سنسد میں کہا تھا کہ آنگن واڑی کارکنان صرف نوکر ہیں ۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کی کوئی تجویز نہیں۔ جبکہ بہت ساری کمیٹیاں ہماری تنخواہوں میں اضافہ کی تجاویز رکھتی ہیں ۔اس لئے ان کاجواب جھوٹا اور من گھڑت ہے ۔