ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کپل سبل کو راجیہ سبھا جانے سے روکنے میں بی جے پی مصروف

کپل سبل کو راجیہ سبھا جانے سے روکنے میں بی جے پی مصروف

Wed, 01 Jun 2016 21:19:13    S.O. News Service

 

مودی حامی ارب پتی کی بیوی پریتی کو میدان میں اتارا

 نئی دہلی یکم جون(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)راجیہ سبھا کی58میں سے بی جے پی کم از کم 17نشستیں جیت رہی ہے۔مگر پارٹی کی نظریں 5اور سیٹوں پرہیں جہاں وہ پردے کے پیچھے مقابلے میں اتر آئی ہے۔سب سے زیادہ دلچسپ اترپردیش ہے جہاں کانگریس کے کپل سبل کو روکنے کے لئے پارٹی نے ایک ارب پتی کی بیوی کو میدان میں اتارا ہے۔راجیہ سبھا کے لئے یوپی سے فارم بھر رہی پریتی مہاپاتراوزیراعظم نریندر مودی کی حامی ہیں اور گجرات کے ارب پتی کاروباری کی بیوی ہیں۔ان کی نامزدگی پربی جے پی اورکچھ چھوٹی پارٹیوں کے ممبران اسمبلی نے دستخط کئے ہیں۔دراصل یوپی میں راجیہ سبھا جیتنے کے لئے34ووٹ چاہئیں اوربی جے پی کے پاس اپنے امیدوار شیو پرکاش شکلا کو جتانے کے بعد 7ووٹ بچتے ہیں جو پریتی کو دیئے جائیں گے۔اترپردیش بی جے پی کے ترجمان وجے بہادر پاٹھک کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنے سرپلس ووٹ ایس پی، بی ایس پی یاکانگریس کو تو دینے سے رہی۔لیکن ہم کسی کے لئے مقابلہ مشکل نہیں بناناچاہتے۔لیکن بی جے پی کا ارادہ کپل سبل کا راستہ روکناہے جنہیں پانچ اورووٹ چاہئے۔اترپردیش میں11سیٹوں کے لئے انتخابات ہوناہے اورپریتی سمیت12امیدوارمیدان میں ہیں۔اسی طرح بی جے پی نے کچھ اور ریاستوں میں بھی آزاد امیدوار یا اپنے امیدوارکھڑے کئے ہیں۔مدھیہ پردیش میں کانگریس امیدوارکوروکنے کے لئے ونود گوٹیا کو کھڑا کیاگیا۔جیت کے لئے58ووٹ چاہئیں۔بی جے پی کے پاس49سرپلس ہے، یعنی اسے 9ووٹ اور چاہئیں جبکہ کانگریس کو جیت کے لئے صرف ایک۔وہاں بی ایس پی کے چاراورتین آزاد امیدوار ممبران اسمبلی پربی جے پی کی نظریں ہیں۔ہریانہ میں بی جے پی نے میڈیا کاروباری سبھاش چندراکوحمایت دی ہے۔وہاں دوسیٹوں پر انتخابات ہیں اور جیتنے کے لئے31ووٹ چاہئیں۔بی جے پی کے پاس اپنے امیدوار چودھری وریندر سنگھ کو جتانے کے بعد 20سرپلس ووٹ رہیں گے جبکہ آئی این ایل ڈی کے پاس 19اور کانگریس کے پاس 17ممبران اسمبلی ہیں۔تاہم آئی این ایل ڈی نے آر کے آنندکوحمایت دی ہے۔اتراکھنڈمیں بھی بی جے پی نے امیدوار اتار دیا ہے۔وہاں ایک نشست پرالیکشن ہے۔جیتنے کے لئے31ووٹ چاہئیں۔بی جے پی کے پاس28ووٹ ہیں جبکہ کانگریس کے پاس 27ووٹ،پی ڈی ایف کے 6ووٹ کانگریس کو ملنے کاامکان ہے۔جھارکھنڈ میں دوسری نشست کے لئے بھی پارٹی کا امیدوار میدان میں ہے۔وہاں ریاستی خزانچی مہیش پوددارکوٹکٹ دیا گیا ہے۔وہاں جیت کے لئے28ووٹ چاہئے جبکہ بی جے پی کے پاس 19ووٹ سرپلس ہیں۔اپوزیشن بی جے پی پر خرید فروخت کی تیاری کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔11جون کے انتخابات کے بعد بی جے پی راجیہ سبھامیں تھوڑی بہتر پوزیشن میں آ جائیں گے حالانکہ وہ اکثریت کے اعداد و شمار سے بہت پیچھے بنی رہے گی۔راجیہ سبھا کے انتخابی میدان میں بڑے کاروباریوں کا اترنا کوئی نئی بات نہیں۔جن ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں۔ وہاں ممبران اسمبلی پر بھی فتنہ میں آنے کے الزام لگتے رہے ہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ اس بار بی جے پی نے اپنی طاقت سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے لئے انتہائی چالاکی سے حکمت عملی بنائی ہے، جس کی کامیابی کے بارے میں 11جون کو ہی کہا جا سکے گا۔

 


Share: