ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کنڈلور میں مسلم نوجوان پر حملہ کے بعد شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ؛ کل سنیچر کو احتجاجی بند کا منصوبہ

کنڈلور میں مسلم نوجوان پر حملہ کے بعد شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ؛ کل سنیچر کو احتجاجی بند کا منصوبہ

Sat, 30 Dec 2017 01:06:17    S.O. News Service

کنداپور 29/دسمبر (ایس او نیوز)  تعلقہ کے کنڈلور میں ایک مسلم نوجوان کی بہت بری طرح پیٹائی کے بعد شرپسندوں کے خلاف معمولی دفعات عائد کرنے پر مسلمانوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اور حملہ آوروں کے خلاف دفعہ 307 (اقدام قتل) کا معاملہ درج  نہ کرنے پر کل سنیچر کو کنڈلور بند مناتے ہوئے سخت احتجاجی مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  سنیچر کو کنڈلور  بند ہوگا اور احتجاجی مظاہرہ میں پاس پڑوس کے دیہاتوں کے لوگ بھی کثیر تعداد میں شریک ہوں گے۔  مسلمانوں نے پولس کو صبح تک کی مہلت دی ہے کہ وہ   ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کے خلاف  اقدام قتل کا معاملہ درج کرے، اور ان کو فورا گرفتار کرے۔بصورت دیگر کنڈلور بند کے ساتھ ساتھ  سخت احتجاج کیا جائے گا۔

معاملہ کیا ہے :  سمیع اللہ نامی 23 سالہ نوجوان جو کنڈلور سے ایک کلو میٹر دور ماون کٹہ کا رہنے والا ہے، اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ قریب 20 کلو میٹر دور واقع  "اماسے بیل" نامی دیہات سے ایک منی لاری پر 12 جانوروں کو بھر کر اپنے گائوں آرہا تھا کہ  اماسی بیل سے صرف تین کلو میٹر کا فاصلہ طئے کرنے کے بعد تومبٹّے نامی مقام پر  اچانک  15 سے 20 لوگوں کے ایک گروپ  نے ان کی گاڑی کو زبردستی روکتے ہوئے  ان پر حملہ کردیا، اس دوران گاڑی پر سوار دو لوگ فرار ہوگئے، البتہ سمیع اللہ اور منجوناتھ شٹی  ان کے ہاتھ لگ گئے اور مبینہ طور پر سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے اس گروپ نے  جانوروں کو چوری کرکے لے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان دونوں کی بہت بری طرح پیٹائی کردی۔

سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے تمام جانور،  اماسے بیل دیہات سے خرید کر لایا تھا، مگر شرپسندوں نے یہ کہہ کر ان کی دھلائی شروع کردی کہ سبھی جانور چوری کرکے لائے گئے ہیں، سمیع اللہ اور منجوناتھ شٹی کو بہت بری طرح زخمی کرنے کے بعد حملہ آوروں نے ہی پولس کو خبر کرتے ہوئے اُنہیں موقع واردات پر بلالیا اور ان دونوں کو پولس کے حوالے کرتے ہوئے  ان پر ہی چوری کا معاملہ درج کرواکر جیل کی سلاخوں میں بھیج دیا۔ واقعہ  جمعرات صبح کا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شنکر نارائن  پولس نے سمیع اللہ ، منجوناتھ اور دیگر دو  ساتھیوں کے خلاف  جانوروں کی چوری اور اُس کی غیر قانونی نقل وحمل کا معاملہ درج کرتے ہوئے ہاتھ میں ملے ہوئے  دونوں نوجوانوں کو شام کے وقت کنداپور عدالت میں پیش کیا، جہاں ان دونوں نے معزز جج کے سامنے اپنے اوپر ہوئے ظلم کی داستان سنائی، جس کے بعد عدالت نے ان دونوں  کی حالت  دیکھتے ہوئے  فوری ضمانت منظور کی اور دونوں   کو علاج کے لئے اسپتال داخل کرنے کا حکم دیا اور ان پر حملہ کئے جانے کی  شکایت بھی درج کرنے کا حکم دیا۔

بتایا گیا ہے کہ سمیع اللہ کو بہت بری  حالت میں منی پال اسپتال میں داخل کیا گیا، جبکہ منجوناتھ شٹی کو اُڈپی کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا اور حملہ کرنے کے سلسلے میں شنکرنارائن پولس تھانہ میں  دس لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔

اس تعلق سے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولس نے شرپسندوں کے خلاف معمولی دفعات کے تحت شکایت درج کی ہیں، حالانکہ  شرپسندوں نے ان دونوں پر جان لیوا حملہ کیا ہے۔ مسلمانوں کا الزام ہے کہ پولس نے صرف خانہ پوری کے لئے معاملہ درج کیا ہے اور پس پردہ وہ  شرپسندوں کا ساتھ دے رہی ہے۔

سمیع اللہ کی  زخمی حالت کی تصویریں جیسے ہی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئیں، مسلمانوں میں غم و غصہ پھوٹ پڑا، اس تعلق سے مسلمانوں نے مقامی پولس  آفسران سے گفتگو کی  اور مطالبہ کیا  کہ حملہ آوروں کے خلاف دفعہ 307 کے تحت مقدمہ  درج کیا جائے۔ مسلمانوں کا الزام ہے کہ پولس  صرف بھروسے دینے میں لگی ہے اور مسلمانوں کے مطالبات  پر کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے، ان سب کو دیکھتے ہوئے اب مسلمانوں نے کل سنیچر کو کنڈلور بند مناتے ہوئے سخت احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی وفد کی سمیع اللہ اور منجوناتھ کے ساتھ عیادت :  واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ذمہ داران منی پال اور اُڈپی اسپتال پہنچ کر دونوں زخمیوں کی عیادت کی اور واقعے کی مکمل جانکاری حاصل کی۔  بعد میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے  انہوں نے بتایا کہ  نام نہاد اخلاقی پولس کا  کردار کرتے ہوئے بجرنگ دل اور دیگر تنظیموں کے غنڈوں  نے جس طرح ان دونوں پر حملہ کیا ہے، اُن کے خلاف سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہئے اور سبھی شرپسندوں کو فوری طور پر گرفتار کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق  20 سے 30 غنڈوں نے  ان دونوں پر حملہ کیا ہے ، مگر پولس غنڈوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے مظلوموں کے خلاف ہی معاملہ درج کرتے ہوئے اُن بجرنگی غنڈوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اُن حملہ آوروں کو گرفتار کرے ، اگر پولس ایسا نہیں کرتی ہے تو پھر ایس ڈی پی آئی سخت احتجاج کرے گی۔


Share: