گاندھی نگر، 2؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی سے تین راجیہ سبھا ارکان کے انتخاب کو لے کر عام آدمی پارٹی میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے سنجے سنگھ کے طور پر ایک نام تقریبا طے مانا جا رہا ہے، جبکہ باقی دو سیٹوں پرنوین گپتا اور سشیل گپتا کے نام سامنے آئے ہیں، جس کے بعد کمار وشواس کو راجیہ سبھا بھیجے جانے پر پھر بحث گرگئی ہے۔اب اس جنگ میں گجرات کے پاٹیدار لیڈرہاردک پٹیل بھی کود پڑے ہیں۔ہاردک نے منگل کو اس سلسلے میں ٹویٹ کیا ہے اور کمار وشواس کو راجیہ سبھا بھیجے جانے کی حمایت کی ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں ہاردک نے لکھا ہے کہ پارلیمنٹ میں اگر کوئی ایک آدمی فرضی قوم پرستوں کو خاموش کرا سکتا ہے تو وہ کمار وشواس ہے، پر پتہ نہیں عام آدمی پارٹی میں کسے ان کے قد سے عدم تحفظ ہے کہ پارٹی اور موقع دونوں کو ختم کرنے پر تلے ہیں؟۔بتادیں کہ کمار وشواس اور عام آدمی پارٹی میں طویل وقت سے کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اوکھلا سے پارٹی ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کو لے کر پارٹی سے ان کی جنگ عوامی ہو گئی تھی، جس کے بعد ہی پارٹی میں کردار کو لے کر ہر طرف بحث ہونے لگی۔اس دوران جب راجیہ سبھا ارکان کو لے کر گہما گہمی ہوئی تو دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ جنہیں عہدہ کا لالچ ہے وہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔پارٹی کی اعلی قیادت کے قریبی ذرائع کے مطابق کمار وشواس کے نام پر پارٹی کے لیڈروں میں ذرا سی بھی رائے نہیں ہے۔