نئی دہلی،31؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کلبھوش جادھو کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہو رہی بیان بازی سے دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیر کی ملاقات ہوئی ہے۔یہ ملاقات غیر جانبدار مقام تھائی لینڈ میں ہوئی۔دونوں ممالک کے حکام کی ملاقات پاکستانی جیل میں بند سابق بحریہ افسر کلبھوش جادھو کی ان کی ماں اور بیوی سے ملاقات کے اگلے دن ہی ہوئی تھی۔ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر(این ایس اے)اجیت ڈوبھال اور ان کے پاکستانی ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جاجا (ریٹائرڈ) کے درمیان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ملاقات ہوئی۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا جادھو معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔اس ملاقات کی جگہ اور تاریخ دسمبر کے آغاز میں ہی طے کر لی گئی تھی۔واضح رہے کہ جادھو کے اہل خانہ سے ملنے کے بعد پیدا ہوئے تنازعہ میں پاکستان نے کہا تھا کہ اس نے انسانی بنیاد پر کلبھوش کے اہل خانہ کو اس سے ملوایا۔وہیں ہندوستان نے ملاقات کے طور طریقوں پر سوال کھڑے کئے تھے۔ہندوستانی حکام نے این ایس اے کی ملاقات کے موضوع پر کوئی معلومات نہیں دی ہے۔ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ہندوستانی وزارت خارجہ کے اعلی حکام کو بھی اس ملاقات کی معلومات دی گئی تھی۔یہ ملاقات دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔چونکہ پاکستان کے این ایس اے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں، لہٰذا منگل کو ہوئی اس ملاقات کے بارے میں پاکستانی فوج کو بھی مطلع کیا گیا تھا۔اس ملاقات کے بعد جانجوانے جمعرات کو سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے بھی ان کی رہائش گاہ پر تقریبا پانچ گھنٹے طویل اجلاس کی۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں قومی سلامتی، پڑوسی ممالک سے تعلقات اور دہشت گردی پر تبادلہ خیال ہوا۔ہند۔پاک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات اس معنی میں اہم ہے کہ اس سے کچھ پہلے پاک این ایس اے جانجوانے 18 دسمبر کو کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کا خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کوئی بھی غلطی اس علاقے میں بدامنی کی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔پہلے بھی دسمبر 2015میں دونوں ممالک کے این ایس اے نے خارجہ سیکرٹریوں کے ساتھ بھی بینکاک میں میٹنگ کی تھی۔اس سے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک لاہور جاکر اس وقت پاک پی ایم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔امید کی جا رہی ہے اس اجلاس میں ہندوستان نے سرحد پار سے دراندازی، حافظ سعید کے رہا ہونے اور سیاست میں آنے اور لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی کے ضمانت پر رہا ہونے کے معاملے اٹھائے۔