اسلام آباد10؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)کشمیر معاملے پر ہندوستان کو ایک بار پھر اکساتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے آج کہا کہ ہندوستان اگر کشمیری لوگوں کی آزادی کی جدوجہد کا دہشت گردی سے موازنہ کرتا ہے تو وہ غلطی پر ہے۔شریف نے اپنی پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ کے دوران کہاکہ ہندوستان اگر آزادی کی لڑائی کو دہشت گردی کے برابر سمجھتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔شریف نے کہا کہ کشمیری خود ارادیت کے اپنے حق کے لئے لڑ رہے ہیں اور پاکستان ان کو حمایت دیتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے لئے مصروف عمل ہے،دنیا میں کوئی بھی طاقت ہمیں کشمیریوں کی آزادی کی جنگ کی حمایت کرنے سے نہیں روک سکتی۔شریف کایہ تبصرہ 18ستمبر کو اڑی دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پیدا کشیدگی کے پس منظر میں آیاہے۔اڑی حملے کے بعد ہندوستان نے کنٹرول لائن کے پاک مقبوضہ علاقے میں واقع دہشت گرد انہ ٹھکانوں پرسرجیکل اسٹرائیک کئے تھے۔شریف نے ہندوستان کے ساتھ کشیدگی پر بات چیت کرنے کے لئے گزشتہ ہفتے کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کی تھی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا اور قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کی تھی۔آج کی یہ میٹنگ ان کی پارٹی میں اس بات کو لے کر چل رہی بحثوں کے درمیان منعقد کی گئی کہ عمران خان کی 30اکتوبر کو دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی سے کس طرح نمٹا جائے۔خان نے شریف خاندان کی طرف سے مبینہ بدعنوانی کو لے کر یہ دھمکی دی ہے۔شریف نے خان کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے دوران حدیں پار نہیں کریں۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں لوگ ہڑتال کر سکتے ہیں لیکن کسی کو بھی حدوں سے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مظاہرے کی سیاست کے ذریعے ملک کو مفلوج بنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ملے گی۔شریف نے یہ بھی کہا کہ مؤثر پالیسیوں کی وجہ سے معیشت مضبوط ہوئی ہے کیونکہ حکومت دہشت گردی اور توانائی کی کمی سمیت تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔