ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری متاثرین 8 لاکھ 67 ہزار، اموات 4 لاکھ 68 ہزار سے متجاوز

کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری متاثرین 8 لاکھ 67 ہزار، اموات 4 لاکھ 68 ہزار سے متجاوز

Sun, 21 Jun 2020 17:52:14    S.O. News Service

نیویارک، ۱۲/جون (آئی این ایس انڈیا)گزشتہ 24 گھنٹو ں میں سب سے زیادہ پازیٹو کیسز امریکہ میں رپورٹ ہوئے، جن کی تعداد 27 ہزار ہے۔ اس کے بعد بھارت کا نمبر ہے جہاں آج 16 ہزار افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔ 9 ہزار کے مریضوں کے ساتھ روس تیسرے جب کہ دنیا بھر میں پاکستان چوتھے درجے پر رہا، جہاں آج 6600 نئے کیسز سامنے آئے۔امریکہ میں اب تک پونے تین کروڑ کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ ایک کروڑ 66 لاکھ کے ساتھ روس دوسرے درجے پر ہے۔ بھارت میں اب تک 66 لاکھ ٹیسٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان اس فہرست میں کافی پیچھے ہے۔ جہاں اب تک ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد 10 لاکھ ہے۔

کسی بھی ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد جانچنے کا مستند پیمانہ اس کا ٹیسٹ ہے۔ امریکہ میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس ملک میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 71 ہزا ر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جنہیں کرونا لگ چکا ہے، لیکن ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا اندراج نہیں ہو رہا۔ اس لیے کرونا مریضوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اسپتالوں پر بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے، جب کہ ایسے ڈاکٹر 20 ہزار کے قریب ہیں جو کرونا وائرس کا علاج کر سکتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں سینکڑوں ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں، جن میں کئی ایک اموات بھی ہوئی ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور پھر محدود سرگرمیوں کے نتیجے میں کاروباروں میں 50 فی صد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومتی قواعد و ضوابط پر عمل کرنے سے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مہاجرین کے عالمی دن کے موقعے پر اقوام متحدہ کے حکام نے انتباہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا سے دنیا بھر میں مہاجرین کے مسائل مزید بدتر ہوں گے۔ لاکھوں مہاجرین اور بے گھر افراد کو صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت ماضی کی نسبت زیادہ لوگ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ادارے کے اندازے کے مطابق، انہتر اعشاریہ پانچ ملین لوگ تنازعات اور پر تشدد حالات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً تیس ملین مہاجرین دوسرے ایسے ملکوں میں پناہ گزیں ہیں، جہاں معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں، اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جن حالات میں مہاجرین رہ رہے ہیں، ان کی وجہ سے ان کی صحت خطرات میں گھری ہوئی ہے اور یہ کرونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔


Share: