ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا کی ساحلی پٹی پر بی جے پی کی گرفت برقرار - تینوں لوک سبھا سیٹوں پر درج کی جیت 

کرناٹکا کی ساحلی پٹی پر بی جے پی کی گرفت برقرار - تینوں لوک سبھا سیٹوں پر درج کی جیت 

Wed, 05 Jun 2024 12:34:50    S.O. News Service

بھٹکل، 5 / جون (ایس او نیوز) اٹھارویں لوک سبھا انتخابات کے دوران اتر کنڑا، اڈپی چکمگلورو اور دکشن کنڑا کی تینوں سیٹوں پر جیت درج کرتے ہوئے کرناٹکا کی ساحلی پٹی کی اپنی گرفت برقرار رکھنے میں بی جے پی کامیاب ہوگئی ۔
    
حالانکہ بی جے پی نے ان حلقوں کے سیٹنگ اراکین اننت کمار ہیگڑے، نلین کمار کٹیل اور شوبھا کرندلاجے کو اس مرتبہ میدان میں اتارنے کے بجائے نئے افراد کو ٹکٹ دیا تھا، اس کے باوجود یہ تینوں بڑی آسانی سے جیتنے میں پارٹی پوری طرح کامیاب رہی ۔
    
ساحلی پٹی کی تینوں سیٹوں پر اپنا قبضہ قائم رکھنے کے تعلق سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2019 کے انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ ان تینوں امیدواروں کی جیت کا فرق کم ہے، پھر بھی  حقیقت یہ ہے کہ  بی جے پی کے "ہندوتوا" کارڈ نے اس کھیل میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ البتہ جیتنے کے لئے حاصل کیے گئے ووٹوں کا فرق یہ اشارہ کرتا ہے کہ اس مرتبہ کانگریس نے بی جے پی کے ووٹرس کے قلعے میں گھسنے کی کچھ کوشش ضرور کی ہے ۔
    
اتر کنڑا کی سیٹ پر 1996 سے اب تک بی جے پی نے صرف  1999 کے انتخابات میں کانگریس کی مارگریٹ آلوا کی جیت کے سوا بقیہ تمام انتخابات میں مسلسل ساتویں مرتبہ جیتی ہے ۔ اس مرتبہ سابق وزیر اور کرناٹکا اسمبلی کے سابق اسپیکر وشویشورا ہیگڑے کاگیری نے بی جے پی کے لئے یہ سیٹ حاصل کی ۔ یاد رہے کہ وشویشورا ہیگڑے کاگیری  کو گزشتہ سال ہوئے اسمبلی الیکشن میں سرسی حلقے سے ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا تھا مگر اب لوک سبھا الیکشن میں کینرا حلقے سے سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر انجلی نمبالکر کو شکست دیتے ہوئے پہلی مرتبہ پارلیمانی الیکشن جیتنے میں وہ کامیاب ہوگئے ۔ 
    
اس الیکشن کا ایک اہم زاویہ یہ بھی رہا کہ سیٹنگ ایم پی اننت کمار ہیگڑے جس نے اس سے قبل چھ مرتبہ بی جے پی کے لئے اس حلقے سے جیت درج کی تھی اس مرتبہ اپنی جگہ اتارے گئے پارٹی کے امیدوار وشویشورا ہیگڑے کاگیری کے لئے تشہیری مہم یا کسی انتخابی سرگرمی میں حصہ لینے  سے اپنے آپ کو الگ رکھا ۔ لیکن الیکشن کا نتیجہ بتا رہا ہے کہ اننت کمار کے نہ ہونے سے کاگیری کی جیت پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔ 
    
جہاں تک دکشن کنڑا حقلے کا تعلق ہے یہاں بی جے پی نے 1991مسلسل نوویں مرتبہ پارلیمانی سیٹ جیتی ہے ۔ اسی کے ساتھ بینگلورو ساوتھ کی جو سیٹ ہے وہ مسلسل بی جے پی کے ہی کھاتے میں جا رہی ہے ۔ دکشن کنڑا کی سیٹ پر انڈین آرمی کے سابق کپتان اور بی جے پی کے ریاستی سیکریٹری برجیش چوتا نے کانگریسی امیدوار ایک نوآموز ایڈوکیٹ پدما راج آر پجاری کو شکست دے کر اپنی کامیابی درج کی ہے ۔ 
    
اڈپی - چکمگلورو حلقے پر بی جے پی نے 2004 سے اپنی گرفت بنائی اور اب پانچویں مرتبہ یہاں اس نے یہاں جیت درج کی ہے ۔ صرف 2012 کے ضمنی الیکشن میں کانگریس نے یہ سیٹ بی جے پی سے چھینی تھی ۔ مگر اس کے بعد سے اب تک بی جے پی نے یہ سیٹ اپنے قبضے میں رکھی ہے ۔ اس دفعہ لیجسلیٹیو کاونسل میں حزب اختلاف کے لیڈر کوٹا سرینواس پجاری نے کانگریس کے سابق وزیر اور کرناٹکا بیک ورڈ کلاسس کمیشن کے چیرمین کے جئے پرکاش ہیگڑے کو شکست دیتے ہوئے اپنے لئے پارلیمان کی راہ ہموار کر لی ۔ 
    
کوٹا سرینواس پجاری نے پہلی مرتبہ رکن پارلیمان کے بطور انتخاب جیتا ہے ۔ جئے پرکاش ہیگڑے نے 2012 کا ضمنی پارلیمانی انتخاب جیتا تھا مگر 2009  اور 2014  کے انتخابات میں ہیگڑے کو اس حلقے سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس کے باوجود کانگریس نے پھر ایک بار جئے پرکاش کو  اپنا امیدوار بنایا تو تھا مگر اڈپی ضلع انچارج وزیر لکشمی ہیبالکر نے اپنی پارٹی کے امیدوار ہیگڑے کے لئے تشہیری مہم چلانے میں کوئی حصہ نہیں لیا  اور اس مرتبہ بھی ہیگڑے کو جیت درج کرنے میں کامیابی نہیں ملی ۔ 


Share: