ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری کا پانی صرف پینے کیلئے استعمال کیا جائے؛ ایوان بالا میں قرار داد اتفاق رائے سے منظور

کاویری کا پانی صرف پینے کیلئے استعمال کیا جائے؛ ایوان بالا میں قرار داد اتفاق رائے سے منظور

Sat, 24 Sep 2016 00:05:19    S.O. News Service

بنگلورو۔23/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری طاس کے علاقوں میں آنے والے چاروں آبی ذخائر کے پانی کا استعمال صرف پینے کیلئے کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اس موقف کو آج ریاستی لیجسلیٹیو کونسل میں تمام پارٹیوں کی طرف سے بھرپور حمایت ملی۔آج خصوصی اجلاس کی کارروائی کی شروعات میں تعزیتی قرار داد کے بعد چیرمین ڈی ایچ شنکر مورتی نے کاویری بحران پر بحث کی اجازت دی۔ کانگریس رکن اے روی نے تحریک پیش کرتے ہوئے کہاکہ کاویری طاس کے چاروں آبی ذخائر کے آر ایس، کبنی، ہارنگی اور ہیماوتی میں پانی کا استعمال صرف پینے کیلئے کرنے کی مجبوری کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ بنگلور سمیت کاویری طاس کے شہروں میں پینے کے پانی کی فراہمی اسی ذخیرہ کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان آبی ذخائر میں دن بدن پانی کی سطح کا گھٹنا تشویشناک امر ہے۔اسی لئے حکومت کو طے کرنا چاہئے کہ اس پانی کا استعمال پینے کے علاوہ کسی اور مقصد کیلئے نہیں کیاج ائے گا۔انہوں نے تمام پارٹیوں کو آواز دی کہ حکومت کے اس موقف کی حمایت کی جائے۔ اس قرار داد کی کانگریس رکن وی ایس اگرپا نے حمایت کی، اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپانے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اگر کاویری معاملے میں ٹھوس فیصلہ لے گی تو اپوزیشن پارٹیاں حکومت کے ساتھ ہیں، انہوں نے کہاکہ حکومت کے کسی بھی فیصلے کو تمام پارٹیوں کی طرف سے حمایت پہلی بار مل پائی ہے۔ریاستی مفادات کے تحفظ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر جس طرح کے اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔انہو ں نے کہاکہ کاویری طاس کے چاروں ذخائر میں صرف 27.6 ٹی ایم سی فیٹ پانی بچا ہوا ہے، سپریم کورٹ نے حقائق سے آگاہی کے بغیر تملناڈو کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔ کرناٹک کے عوام اور حکومت کی فراخدلی کا تملناڈو نے اب تک غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ ایسے مرحلے میں جبکہ کرناٹک کیلئے پینے کا پانی نہیں ہے تو تملناڈو کو پانی کہاں سے دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے سبب عوام اور کسانوں نے اپنے جس غم وغصہ کا اظہار کیا اس کی وجہ سے چالیس ہزار کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے عوام کو جب پینے کاپانی میسر نہیں ہے تو تملناڈو کا یہ اصرار بے جا ہے کہ اسے سامبا فصلوں کیلئے پانی فراہم کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی حال میں تملناڈو کو ایک قطرہ پانی مہیا نہ کرایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے پچھلی دو کل جماعتی میٹنگوں میں حکومت سے یہی مطالبہ کیاتھاکہ تملناڈو کو پانی فراہم نہ کیا جائے اور صورتحال پر بحث کیلئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے پانی فراہم کئے جانے پر ہی بی جے پی کو تیسری کل جماعتی میٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرنا پڑا۔ جہاں تک کاویری کے معاملے پر سخت فیصلے کا سوال ہے بی جے پی حکومت کے ساتھ ہے۔جنتادل (ایس) کے بسوراج ہوراٹی نے مخاطب ہوکر کہاکہ کرناٹک کی تاریخ میں آج کا دن سنہری حروف میں درج کیاجانا چاہئے۔ ریاستی مفادات کے تحفظ کیلئے سیاسی اور علاقائی اخلافات سے بالاتر ہوکر سبھی اراکین اسمبلی وکونسل نے جس طرح کا اتحاد پیش کیا ہے وہ قابل رشک ہے۔ اس موقع پر چیرمین شنکر مورتی نے ایک سطری قرار داد پیش کی کہ کاویری طاس کے چاروں آبی ذخائر میں جمع پانی کا استعمال صرف پینے کیلئے کیاجائے۔ اس قرار داد کو اتفاق رائے سے منظور کرنے کے ساتھ ہی ایوان کی کارروائی بے مدت ملتوی کردی گئی۔


کاویری مسئلے پر سیاسی اتحاد کا مثالی مظاہرہ
لیجسلیچر کے دونوں ایوانوں میں قرار داد منظور

بنگلورو۔23/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری معاملے میں ریاستی حکومت کے موقف کو قانونی حیثیت دینے کیلئے آج ریاستی لیجسلیچر کے دونوں ایوانوں کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں اتفاق رائے سے یہ قرار دادیں منظور ہوئیں کہ کاویری کا پانی صرف پینے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ ریاست کے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر ریاست کی زبان، زمین اور پانی کے معاملے میں یگانگت کا مظاہرہ کیا۔ آج صبح گیارہ بجے اسمبلی اجلاس کو شروع کیا جانا چاہئے تھالیکن 2-15 بجے شروع ہوا، کافی بحث ومباحثے کے بعد قرار داد کے متن کو تمام سیاسی جماعتوں نے منظوری دی۔ جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی اسمبلی میں جنتادل (ایس) کے نائب لیڈر وائی ایس وی دتہ نے کنڑا میں اور انگریزی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے قرار داد پیش کی۔ قرار داد میں تملناڈوکو کاویری کاپانی فراہم نہ کرنے کا کوئی تذکرہ اس لئے نہیں کیا گیا کہ ایسے تذکرہ سے توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے عدلیہ اور مقننہ میں ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ کافی بحث ومباحثہ کے بعد یہ طے کیاگیا کہ کاویری کے پانی کے استعمال کو صرف پینے تک محدود رکھا جائے، تاکہ زراعت کیلئے استعمال کی گنجائش نہ رہے۔ قرار داد کا متن اس طرح رہا کہ 2016-17 کے دوران بارش کی شدید کمی کے سبب ایوان نے اس کا سخت نوزٹس لیتے ہوئے طے کیا ہے کہ کاویری کے پانی کا استعمال صرف پینے کیلئے کیا جائے۔ چونکہ کاویری میں پانی کی مقدار صرف 27.6 ٹی ایم سی فیٹ ہے، ایوان اس قدر کمی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ کرناٹک کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیاجاتا ہے کہ کاویری طاس کے چاروں آبی ذخائر میں پنی کی موجودہ مقدار کو صرف پینے کیلئے استعمال کیاجائے گا اس سے ہٹ کر کسی اور مقصد کیلئے پانی کا استعمال ممکن نہیں، ایوان اس قرار داد کو اتفاق رائے سے منظور کرتاہے۔ اسمبلی میں پچھلے اجلاس سے اب تک فوت ہونے والے سابق ممبران اور حالیہ اڑی حملے میں شہید فوجیوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے بعد اسپیکر کے بی کولیواڈ نے کاویری مسئلے پر قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی، مختصر بحث کے بعد اسمبلی میں بھی اس قرار داد کو منظوری مل گئی۔


کاویری تنازعہ پر ایوان میں ایم بی پاٹل کی مختصر تفصیل
بنگلورو۔23/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری آبی تنازعہ کی تازہ صورتحال اور چاروں آبی ذخائر میں پانی کی قلت اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی قانونی جنگ کا خاکہ آج وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل نے ایوان میں پیش کیا۔ کاویری مسئلے پر آج ایوان میں اپوزیشن قائدین جگدیش شٹر اور وائی ایس وی دتہ کی طرف سے قرار داد پیش کئے جانے کے بعد اپنی طرف سے تفصیلات دیتے ہوئے مسٹر ایم بی پاٹل نے بتایا کہ کاویری آبی تنازعہ کی شروعات 1892 میں ہوئی تھی۔ اس وقت کی میسور اور مدراس حکومتوں نے اس تنازعہ کو ختم کرنے کیلئے پانی کی تقسیم کا معاہدہ کیاتھا۔1990 میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل قائم کیاگیا۔ ٹریبونل نے اپنا عبوری حکم جاری کرتے ہوئے تملناڈوکو سالانہ 205/ ٹی ایم سی فیٹ پانی فراہم کرنے کی ہدایت دی، تاہم اپنے قطعی حکم میں ٹریبونل نے حکم دیا کہ حسب معمول بارش کی صورت میں تملناڈو کاویری سے سالانہ 192 ٹی ایم سی فیٹ پانی فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ کاویری میں اگر سالانہ حسب معمول بارش ہوتو 740ٹی ایم سی فیٹ پانی کا ذخیرہ کیاجاسکتا ہے، جس میں سے 2708ٹی ایم سی فیٹ کرناٹک 419ٹی ایم سی فیٹ تملناڈو، 30 ٹی ایم سی فیٹ کیرلا اور 7 ٹی ایم سی فیٹ پانڈیچر کو دینے کے بعد دس ٹی ایم سی فیٹ پانی تحفظ ماحولیات اور چار ٹی ایم سی فیٹ پانی سمندر کی طرف بہایا جاتاہے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے کاویری ریور اتھارٹی وزیر اعظم کی صدارت میں قائم کی اور اس اتھارٹی کی ہدایت پر کاویری نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 


لیجسلیچر اجلاس سے امبریش غیر حاضر
بنگلورو۔23/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری آبی تنازعہ پر جبکہ ساری ریاست میں ہنگامہ مچا ہوا ہے تو کاویری طاس کے مرکز میں آنے والے منڈیا ضلع کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر امبریش واحد رکن اسمبلی رہے جو آج کاویری مسئلے پر منعقدہ خصوصی لیجسلیچر اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ کاویری مسئلے پر جاری تحریک میں سرگرم ہوکر حصہ لینے اور اپنے حلقے کے کسانوں کے مفادات کی نمائندگی کھل کر نے کی بجائے جب سے کاویری بحران شروع ہوا ہے امبریش نے بیرون ملک دورے کو ترجیح دی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے کاویری بحران نے جو نیا رخ اختیار کیا اور اس کے بعد سے احتجاجات کی جو لہر ریاست گیر پیمانے پر چل پڑی ہے ان میں سے ایک احتجاج میں بھی امبریش کہیں نظر نہیں آئے۔ آج خصوصی اجلاس میں بھی غیر حاضر رہ کر کاویری طاس کے متعلق اپنی لاپرواہی کا انہوں نے کھلا ثبوت دیا ہے۔ حالانکہ منموہن سنگھ حکومت کے پہلے دور میں امبریش کو مرکزی وزارت دی گئی تھی، اور وزیر مملکت برائے اطلاعات بنایا گیاتھااس وقت کاویری تنازعہ کھڑا ہونے پر امبریش نے مرکزی وزارت سے استعفیٰ دے دیاتھا، لیکن اب اس مسئلے پر ان کی خاموشی غالباً سدرامیا وزارت سے ان کی برطرفی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ کاویری مسئلے پر جیسے ہی احتجاجات کی لہر شروع ہوئی امبریش دورہئ امریکہ کیلئے روانہ ہوگئے، بتایا جاتاہے کہ ان کی آج یا کل شام واپسی متوقع ہے، دیکھنا ہے کہ اس کے بعد وہ کیا موقف اپناتے ہیں۔
 


Share: