ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری بحران کا اثر شہر میں پانی کی فراہمی پر ،بی ڈبلیو ایس ایس بی نے ہفتہ میں دو دن پانی مہیا کرانے کی تیاری کرلی

کاویری بحران کا اثر شہر میں پانی کی فراہمی پر ،بی ڈبلیو ایس ایس بی نے ہفتہ میں دو دن پانی مہیا کرانے کی تیاری کرلی

Tue, 04 Oct 2016 11:09:21    S.O. News Service

بنگلورو،3؍اکتوبر(ایس او نیوز) کاویری طاس کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح گھٹنے کے ساتھ ہی بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سوریج بورڈ نے شہر میں پانی کی سربراہی میں بھاری کٹوتی کی تیاری شروع کردی ہے۔ بی ڈبلیو ایس ایس بی کے افسران نے کہاکہ کاویری سے شہر بنگلور کیلئے پینے کے پانی کی جو مقدار ریاستی حکومت کی طرف سے طے کی گئی ہے ،اس کے مطابق آنے والے کچھ دنوں میں شہر بنگلور میں پانی کی سربراہی ہفتہ میں ایک یا دو دن کرنے پر سنجیدگی سے غور کیاجارہا ہے۔ایک طرف بارش کی قلت اور دوسری طرف سپریم کورٹ کے حکم کے نتیجہ میں کاویری کے پانی کی تملناڈوکو فراہمی کی وجہ سے شہر بنگلور کے استعمال کیلئے مختص کاویری کا پانی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ شہر بنگلور میں پانی کی فراہمی کیلئے ہر سال ستمبر کے اواخر تک کرشنا راجہ ساگر میں 25 تا30ٹی ایم سی فیٹ پانی جمع رہتا ، لیکن اس بار شہر بنگلور کیلئے پانی کی مقدار محض 11.24 ٹی ایم سی فیٹ ہی ہے۔ ریاست میں جون سے اب تک مسلسل بارش کی ناکامی کے سبب دریائے کاویری میں پانی کی صورتحال اس قدر بگڑی ہوئی ہے۔کے آر ایس میں فی الوقت جو پانی ہے اس سے بنگلور ، منڈیا اور میسور کے شہریان کو پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا۔ بنگلور میں ماہانہ پینے کیلئے 1.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی درکار ہے۔ اس اندازے کے مطابق آئندہ جولائی تک شہر بنگلور کیلئے 12تا13 ٹی ایم سی فیٹ پانی درکار ہے۔ میسور کو تین ٹی ایم سی ، منڈیا ، رام نگرم اور چامراج نگر کو تین ٹی ایم سی فیٹ پانی درکار ہے۔اس سے پہلے بھی 2010میں ایسی ہی صورتحال پیش آئی تھی، جب شہر میں ہفتے میں صرف دو مرتبہ پانی مہیا کرایا جارہاتھا۔اس بار بھی بی ڈبلیو ایس ایس بی افسران ایسا ہی طریقہ اپنانے پر غور کررہے ہیں۔ بی ڈبلیو ایس ایس بی افسران نے بتایاکہ شہر میں حالانکہ بہت بڑی تعداد میں بورویلس موجود ہیں ، صرف بی بی ایم پی کی حدود میں بورویلوں کی تعداد 2؍لاکھ سے زائد ہے۔ لیکن ان میں سے 90فیصد کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔اس سلسلے میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کی طرف سے تیار شدہ رپورٹ کے مطابق شہر بنگلور میں بورویلوں اور کنوؤں کا پانی صرف ضمنی ضروریات کیلئے کام میں لایا جاسکتا ہے۔ بی ڈبلیو ایس ایس بی افسران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہفتے میں دو دن پانی فراہم کرنے کے سلسلے میں اب بھی قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ پانی کی مقدار میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو پانی کی فراہمی کا سلسلہ بھی موجودہ روش پر ہی برقرار رکھا جائے گا۔ شہر میں پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے بی ابی ایم پی نے ایک اور سخت طریقہ اپناتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ شہر میں بارش کے پانی کو جمع کرنے کے ضابطہ پر عمل لازمی ہوگا۔ 2009 میں حکومت نے بارش کا پانی جمع کرنے کا ضابطہ لاگو کیا تھا، لیکن 2012 میں اس پر عمل میں سختی لائی گئی۔ بی ڈبلیو ایس ایس بی نے موجودہ کاویری بحران کو دیکھتے ہوئے طے کیاہے کہ جن لوگوں کی طرف سے بارش کا پانی جمع کرنے کے ضابطہ میں لاپرواہی برتی جارہی ہے ان سے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ شہر میں جرمانہ کی وصولی کیلئے جون کے دوران مہم شروع کی گئی ، پہلے مہینہ 17؍ لاکھ ،جولائی میں 13 لاکھ اور اگست میں 24لاکھ روپیوں کا جرمانہ وصول کیا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں نئی تعمیرات کی نشاندہی کرتے ہوئے وہاں بارش کا پانی جمع کرنے کیلئے کئے گئے انتظامات کا معائنہ کیاجارہا ہے اور انتظامات نہ ہونے کی صورت میں عمارت کے مالکان پر جرمانہ پر لگایا جارہاہے۔


Share: