چنئی، 3 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )تمل ناڈو کی سیاسی جماعتوں نے آج مرکز پر الزام لگایا کہ اس نے اس سے کاویری پانی مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے لیے کہنے والے سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ترمیم کی درخواست کرکے تمل ناڈو کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔حکمران انا ڈی ایم کے اور اپوزیشن ڈی ایم کے نے الزام لگایا کہ مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے سال 2018میں مجوزہ کرناٹک اسمبلی الیکشن کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔انا ڈی ایم کے کی ترجمان سی آر سرسوتی نے کہا کہ یہ صاف نہیں ہے۔اس سے پہلے بورڈ کے قیام کی یقین دہانی کرانے والی مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ میں یہ درخواست کیوں کی۔انہوں نے سوال کیا کہ عام طور پر کرناٹک نے کاویری معاملے پر تمل ناڈو سے دھوکہ کیا، لیکن اب مرکزایسا کیوں کر رہا ہے؟ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہاکہ یہ عوام کا مسئلہ ہے، سیاست کی کیا ضرورت ہے؟ کانگریس اور بی جے پی کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے میں لگی ہیں اور انہیں تمل ناڈو کے کسانوں کی فکر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف بورڈ کا قیام ہی اس مسئلے کا اچھا حل یقینی بنائے گا۔ترجمان نے کہا کہ بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ نیا نہیں ہے اور ریاستی حکومت نے 2014میں بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے یہ مطالبہ کیا ہے۔ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی نے کہا کہ مرکز نے ہندوستان کے انصاف کے نظام کی توہین کی ہے اور سپریم کورٹ میں اس طرح کی اپیل کرکے انہوں نے تملوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔