ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس چھوڑنے ایس ایم کرشنا کا فیصلہ عاجلانہ؛ بی جے پی پہلے اڈوانی،واجپائی اور جوشی کا احترام کرنا سیکھ لے: ڈی کے شیوکمار

کانگریس چھوڑنے ایس ایم کرشنا کا فیصلہ عاجلانہ؛ بی جے پی پہلے اڈوانی،واجپائی اور جوشی کا احترام کرنا سیکھ لے: ڈی کے شیوکمار

Sat, 04 Feb 2017 08:05:25    S.O. News Service

بنگلورو۔3/فروری( ایس او نیوز) ریاستی وزیر توانائی اور سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا کے دیرینہ معتمد ڈی کے شیوکمار نے کانگریس چھوڑ دینے ایس ایم کرشنا کے فیصلے کو عاجلانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان کو اگر کسی طرح کی پریشانی لاحق تھی تو انہیں چاہئے تھاکہ پارٹی اعلیٰ کمان کے علم میں یہ بات لائیں، ایسا کرنے کی بجائے انہوں نے پارٹی چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے ایس ایم کرشنا سے مطالبہ کیا کہ وہ پارٹی میں برقرار رہیں اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارٹی سے استعفیٰ دینے ایس ایم کرشنا کے فیصلے سے انہیں بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے، اور وہ حیرت زدہ بھی ہیں، اس صدمہ سے باہر نکلنے کے بعد وہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات کریں گے۔ ایس ایم کرشنا کے پارٹی چھوڑ دینے کے فیصلے پر بعض لوگوں کے اعتراضات سے اتفاق کرنے سے انکار کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے اس پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایم کرشنا کے اس فیصلہ سے پارٹی قائدین اور کارکنوں کو مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں ریاست میں کانگرس پارٹی ہی اقتدار پر آئے گی، وقتی فیصلوں کو دیکھ کر پارٹی کارکن اور دیگر قائدین اپنی وفاداریاں تبدیل نہ کریں۔انہوں نے کہاکہ بہت جلد وہ منڈیا میں پارٹی کارکنوں سے ملاقات کرنے کا سلسلہ شروع کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ وہاں کے پارٹی کارکن ایس ایم کرشنا کی جلد بازی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سابق وزیراعلیٰ اور جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی کی اس پیشین گوئی پر کہ عنقریب سدرامیا حکومت گرنے والی ہے اور چھ ماہ میں ریاستی اسمبلی انتخابات ہوں گے، طنز کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ ہوسکتاہے کہ کمار سوامی نے تھوڑا بہت علم نجوم سیکھ لیا ہے، اسی لئے ریاست کے سلگتے ہوئے مسائل پر بیان بازی کرنے کی بجائے پیشین گوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔عموماً کمار سوامی اس طرح کے بیانات دینے کے بعد راہ فرار اختیار کرنے میں ماہر ہیں۔یہی بیان اگر سابق وزیراعظم دیوے گوڈا نے دیا ہوتا تو کافی سنجیدگی سے لیاجاتا۔ انہوں نے کہاکہ سدرامیا حکومت اپنے بل پر اور اپنی اکثریت سے ٹکی ہوئی ہے، کسی اور کے سہارے پر نہیں ہے جس طرح کمار سوامی کی حکومت تھی، جنتادل (ایس) کے چالیس اور بی جے پی کے چالیس اراکین مل بھی جائیں توسدرامیا کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ بی جے پی اور جنتادل (ایس) لیڈروں کے اس تبصرہ پر کہ کانگریسیوں نے ایس ایم کرشنا کا ٹھیک طرح سے احترام نہیں کیا۔ بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ پہلے بی جے پی کے لوگ اپنے قد آور رہنماؤں، اٹل بہاری واجپائی، ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی وغیرہ کا احترام کرنا سیکھ لیں، اور بعد میں کانگریس کو سکھائیں کہ ایس ایم کرشنا کا احترام کس طرح کیا جانا چاہئے۔ 
 


Share: