کانپور9/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی). تین ماہ کی حاملہ خاتون جج پرتیبھا گوتم کی لاش آج ان کے شوہر کی رہائش گاہ میں مشتبہ حالت میں ملنے سے کانپور میں سنسنی پھیل گئی.بتایا گیا ہے کہ ان کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی. پولیس جب موقع پر پہنچی تو ان کے دونوں ہاتھوں کی نسیں کٹی ہوئی تھی. پولس اس بات کی اب تفتیش کررہی ہے یا آیا یہ قتل کا معاملہ ہے یا پھر خودکشی ؟
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈي آئی جي، ایس ایس پی سمیت بھاری پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی. موت کی صحیح وجہ جاننے کے لئے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے. 2013 بیچ کی پی سی ایس جے پرتیبھا گوتم نے 2015 میں کانپور دیہات میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے عہدے پر تعینات تھی.
پرتیبھا نے خود کشی کی ہے یا پھر قتل ہوا، یہ بڑا سوال ہے. پرتیبھا کے ڈرائیور کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ہے. نوکر انج چھٹی پر ہے. پوچھ گچھ کے دوران شوہر منو ابھیشیک نے بتایا کہ اري کے رہنے والے بینک سے ریٹائرڈ راجہ رام کی بیٹی پرتیبھا گوتم پی سی ایس کی تیاری کر رہی تھی. اسی کے ساتھ وہ بھی تیاری کر رہا تھا. منو نے بتایا کہ اس کے والد سریش چندر بھی ریٹائرڈ جج ہیں .2013 بیچ میں پرتیبھا کا انتخاب ہوا تھا، لیکن اس کا نہیں ہو سکا، اسی درمیان دونوں میں پریم ہو گیا. 2015 میں پرتیبھا کے کانپور دیہات میں جوڈیشیل مجسٹریٹ کے عہدے پرمتعین ہونے کے بعد وہ دہلی ہائیکورٹ میں وکالت کی پریکٹس کرنے لگاوهي پرتیبھا کے گھر والے شادی کو تیار نہیں ہوئے تو ان دونوں نے 29 جنوری 2016 کو آریہ سماج سے لومیریج کر لیا . دہلی میں 23 اپریل کو شادی کی تقریب میں بھی لڑکی کے خاندان کے کوئی بھی لوگ شامل نہیں ہوئے تھے.
شوہر منو ابھیشیک نے کل دہلی سے شتابدی ایکسپریس سے کانپور پہنچنے پر پرتیبھا کو ساتھ لیا تھا مگر بتایا گیا ہے کہ گھر جاتے وقت راستے میں دونوں میں تنازعہ ہوا. اس کے بعد پرتیبھا کار سے اتر کر چلی گئی.اور فون بھی بند کر لیا. یہاں پر دروازہ نہ کھولنے پر دروازے کو توڑ دیا ، مگر ابھیشک جب اندر داخل ہوا تو وہ فین سے لٹکی ہوئی ملی۔ پولیس اس معاملے کوشک کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور چھان بین جاری ہے۔
کانپور دیہات میں تعینات ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج پرتیبھا گوتم کانپور میں سرکاری رہائش گاہ میں رہتی تھیں. وہ منو سے لو میریج کرنے کے بعد ایک بار بھی اپنے گھر نہیں گئیں اور وہ تین ماہ کی حاملہ تھیں. بتایا جا رہا ہے کہ اس درمیان میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی. پرتیبھا کی موت سے ایک دن پہلے دونوں کے درمیان جھگڑا بھی ہوا تھا. اس کے بعد جج گوتم کا فون سوئچ آف ہو گیا. آدھی رات کو فون آن ہوا.
اس کے بعد وکیل منو ابھیشیک اور ان کے والد مختلف گاڈيوں پر سوار ہوکر کانپور پہنچے مگر جج گوتم ان کے گھر پر مردہ حالت میں پائی گئی. مہلوک کے والد ریٹائرڈ بینک منیجر راجہ رام مبینہ طور پر لڑکے والوں پر جج گوتم پر بدسلوکی کرنے کا الزام لگایا ہے. سسرال کے لوگوں نے بھی لڑکی کے گھر والوں پر لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔