گنگوک،یکم جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والی قدرتی خوبصورتی کے لئے مشہور سکم ڈوکلام تعطل اور گورکھا لینڈ کو لے کر احتجاج کی وجہ سے گزشتہ سال سرخیوں میں بنا رہا۔73 دنوں تک چلے ڈوکلام تعطل سے طاقتور پڑوسیوں ہندوستان اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔اس سے سکم پر واضح طور پر کوئی براہ راست اثر نہیں پڑا لیکن ریاست کے لوگوں میں اس سے پڑنے والے اثرات کو لے کر تشویش پیدا ہو گئی تھی۔دریں اثنا ہندوستانی بری فوج کے سربراہ بپن راوت نے گزشتہ سال جون کے آخری ہفتے میں سکم کا دورہ کیا اور وہ ہند-چین سرحد پر سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لئے شمالی سکم میں فوج کی پیشگی چوکی پہنچے۔ان کے اس دورے سے مقامی لوگوں کا حوصلہ بلند ہوا تھا۔ڈوکلام تعطل کے ایک ماہ سے زیادہ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے اکتوبر میں سکم کا دو روزہ دورہ کیااور وہ ناتھو لا میں پیشگی چوکی پر گئی جہاں انہوں نے دونوں پڑوسی ممالک کے فوجی دستوں سے بات چیت کی جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ڈوکلام تعطل کے علاوہ علیحدہ ریاست کی مانگ کو لے مغربی بنگال کی دارجلنگ کی پہاڑیوں میں 104دن تک چلے گورکھا لینڈ مظاہروں کی وجہ سے بھی سکم شدید متاثر ہوا۔