ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈاکٹرسید ظفرمحمودکی سربراہی میں ”2017کے انتخابات کیلئے گفت وشنید“ یوپی الیکشن کے تناظر میں جامع حکمت عملی پروسیع تبادلہ خیال

ڈاکٹرسید ظفرمحمودکی سربراہی میں ”2017کے انتخابات کیلئے گفت وشنید“ یوپی الیکشن کے تناظر میں جامع حکمت عملی پروسیع تبادلہ خیال

Sat, 31 Dec 2016 23:11:04    S.O. News Service

نئی دہلی31دسمبر(ایس او نیوز) ڈاکٹرسیدظفرمحمودکے ز یرِ صدارت2017کے انتخابات کیلئے منعقدگفت وشنیدمیں یوپی الیکشن کے تناظرمیں اہم حکمت عملی پرتبادلہ خیال ہوا۔یوپی کی صورتحال پرجامع بحث کے علاوہ انتخابی ذہن سازی پراہم تجاویزسامنے آئیں۔یہ میٹنگ کل رات سیزرس ہاؤس جنگپورہ نئی دہلی میں منعقدہوئی۔ڈاکٹرسیدظفرمحمود کے علاوہ دہلی یونیورسیٹی کے شعبہ اردوکے سابق صدرپروفیسرعبدالحق اورمولاناابوطالب رحمانی سمیت متعدددانشوران نے شرکت کی۔

میٹنگ یوپی الیکشن کے علاوہ دوررس انتخابی حکمت عملی پربھی تبادلہ خیال ہوااورمسلمانوں میں سیاسی بیداری اورسیاسی حصہ داری کیلئے طویل مدتی جدوجہدکس طرح کی جائے،ان امورپربھی روشنی ڈالی گئی۔ڈاکٹرسیدظفرمحمودنے یوپی کے حلقہ واراعدادوشمارپیش کرتے ہوئے بتایاکہ یوپی کی403نشستوں میں مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ریاست کی68سیٹوں میں مسلمانوں کی آبادی35سے78فیصد تک ہے۔اورحال یہ ہے کہ 68زبردست مسلم آبادی والی سیٹوں میں بھی ساٹھ فیصدنشستوں کی نمائندگی غیرمسلم کررہے ہیں۔اس کے علاوہ89حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم آبادی20فیصدسے 28فیصدتک ہے۔اوریہاں صرف 18مسلمان ہی ایم ایل اے ہیں۔11نشستیں یہاں شیڈولڈکاسٹ کیلئے ریزروہیں۔ اگریہاں بھی مسلمان متحدہوجاتے ہیں توکوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کی پسندکاامیدوارکامیاب نہ ہو۔91سیٹوں میں مسلم آبادی 10فیصداور15فیصدکے درمیان ہے۔جہاں مسلمانوں کااتحادبی جے پی کیلئے سردردہوگا۔اورمسلمانوں کی پسندکاامیدوارکامیاب ہوسکتاہے۔

ڈاکٹرسیدظفرمحمودنے ان اعدادوشماراورمزیدتفصیلات کے حوالہ سے کہاکہ مسلمانوں میں سیاسی بیداری کی کمی ہے۔ایک ایک جگہ دس دس مسلمان امیدواربن جاتے ہیں،ضرورت ہے کہ ہرعلاقہ کادورہ کرکے لوگوں کی ذہن سازی کی جائے کہ کسی ایک امیدوارکوطے کریں۔دس بھی کھڑے ہوں توووٹ سب طرف دے کربربادنہ کریں۔نیزعلاقہ کے بااثرافراددیگرامیدواروں سے گفت وشنیدکرکے انہیں نامزدگی واپس لینے پردباؤڈالیں۔اس کیلئے ان کی تنظیم”وطن کی فکر“ہرحلقہ کے بااثرافرادسے رابطہ کیلئے کوشاں ہے اورپوری ٹیم مسلم اکثریتی علاقوں کادورہ کرکے ماحول سازی کرے گی۔انہوں نے عملی طورپرکام کرنے پرزوردیااوراس کے لئے شرکاء سے وقت کاتعاون مانگاجس کامثبت اورحوصلہ افزاء ردعمل سامنے آیا۔انہوں نے طویل مدتی ایجنڈے کے ساتھ کام کرنے کی اپیل کی۔

ڈاکٹرظفرمحمودنے کئی ایجنڈے بھی پیش کئے کہ یہ مطالبات سیکولرزم کی دعویدارپارٹیوں سے مسلمانوں کوکرنے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کوسیکولرپارٹیوں پرزوردیناچاہئے اوران سے تحریری ایگریمنٹ کراناچاہئے کہ ان 68سیٹوں پرجہاں مسلم آبادی35سے78فیصدہے،ان کاامیدوارمسلمان ہی ہو۔اوران89سیٹوں میں سے جہاں مسلم آبادی بیس فیصد ہے وہاں کم ازکم پچاس سیٹوں پرمسلمان امیدوارہوں۔اوراگروہ ایسانہیں کرتیں تومسلمانوں کوچاہئے کہ پھروہ اپنے آزادمسلم امیدوارکومتحدہوکرووٹ دے دیں۔انہوں نے اظہارِافسوس کرتے ہوئے کہاکہ تقریباََپچیس برس سے یوپی کی علاقائی پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹ لیتی رہی ہیں۔مسلمانوں کودوعزم کرناچاہئے۔ایک تویہ کہ سوفیصدووٹ ڈالیں دوسرے یکجاہوکرملت کے مفادمیں ایک ہی مسلم امیدوارکوکامیاب بنائیں۔انہوں نے علی گڑھ،لکھنو،میرگنج،میرٹھ،بجنور،نواب گنج،فاضل نگراورقیصرگنج کے مسلمانوں کی تعریف کی جہاں مسلمانوں کی نمائندگی کاتناسب بہتررکھا۔مولاناابوطالب رحمانی نے ان ا عدادوشماراورمزید تفصیلات کوچھوٹی چھوٹی ویڈیوکلیپنگ میں پیش کرکے سوشل میڈیاپرتحریک چلانے کابھی مشورہ دیا۔یوپی الیکشن کے علاوہ ایک طویل مدتی انتخابی حکمت عملی پرزوردیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوامی ذہن سازی ضروری ہے اورسیاسی بیداری اہم ترین ضرورت ہے۔کوئی پرواہ نہیں اگرنتائج دیرسے آئیں لیکن آنے والی نسلوں کے تحفظ کیلئے بیج ابھی سے وناہوگااوردرختوں کوتناورکرنے کیلئے کوششیں کرناہوں گی۔پروفیسرعبدالحق نے ماضی کی بحثوں میں الجھنے سے قطع نظرمستقبل کے عملی لائحہ عمل کی طرف توجہ دلائی اورزمینی سطح پرکام کرنے کی نوعیت اورصورتوں پرروشنی ڈالی۔

میٹنگ میں ایس ایم شکیل،اسراراحمد،قیام الدین،ممتازنجمی،محمدشارب ضیاء رحمانی،عرفان بیگ،امتیازصدیقی،شہنوازبدرقاسمی،محبوب صہیب قاسمی اورسرفراززیدی بھی شریک رہے۔


Share: