ہلیال، 17؍جنوری (ایس او نیوز) سرکاری تعلقہ اسپتال کے ڈاکٹراور عملے کی غفلت کی وجہ سے ہبلی کے کیمس اسپتال میں ایک زچہ کی موت ہونے کا الزام سامنے آیا ہے۔ فوت ہونے والی خاتون بی بی عائشہ کے والد محمد یوسف اور خاندان کے دیگر ذمہ داران اور کچھ اداروں کی طرف سے اس سلسلے میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور تحصیلدارکی معرفت ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر کومیمورنڈم دیتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔
بتایاجاتا ہے کہ اپنی دوسری زچگی کے لئے بی بی عائشہ مائیکے آئی ہوئی تھی اور اسے 8جنوری کو تعلقہ سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔اس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف نے بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زچگی کروائی جس کے بعد بہت زیادہ خون جاری ہوا۔تب خون کو روکنے کی مناسب تدابیر کے بغیر ہی زچہ کو ہبلی کے کیمس اسپتال میں داخل کرنے کے لئے بھیج دیا ۔جہاں پرعلاج کارگر نہ ہونے کی وجہ سے 13جنوری کو اس کی موت واقع ہوگئی۔
کہتے ہیں کہ بی بی عائشہ کی میت لے کر گھر والوں نے جب تعلقہ اسپتال کے باہر احتجاج کیا تھاتو تعلقہ ہیلتھ افیسرڈاکٹر رمیش کدم نے مناسب تحقیقات کا وعدہ کیا تھا۔لیکن اس ضمن میں اب تک کسی بھی قسم کا اقدام نہ ہونے پر تحصیلدار دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے میمورنڈم پیش کیاگیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر انصاف نہیں ملاتو پھر زبردست احتجاج کیاجائے گا۔
اس سلسلے میں تحصیلدار ودیا دھر گلوگولی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جانچ اور کارروائی کی جائے گی ، لیکن اس کے لئے کچھ دنوں کی مہلت درکار ہے۔صرف مسئلے پر بحث کرنا کافی نہیں ہے ، بلکہ ہمیں اس کا حل بھی نکالنا ہے۔جبکہ تعلقہ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر رمیش کدم نے بتایا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر کی ہدایت کے مطابق مدر اینڈ چائلڈ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے سرسی کے گائناکولوجسٹ ڈاکٹر ونائک بھٹ، سداپور کے ڈاکٹر پورانک اور کاروار کے ڈاکٹر شرتھ نائک کی ٹیم اس پورے معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔ اس لئے فوت ہونے والی خاتون کے خاندان والوں کو تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیے۔