میلنڈہلی تا چنتامنی ٹاون تک10 کروڑ کے لاگت تار گول راستے کے لئے سنگ بنیاد رکھنے بعد رُکن اسمبلی کی وارنگ
چنتامنی:6 /اکتوبر(محمد اسلم/ایس او نیوز) تعلقہ میں کروڈوں روپئے کے لاگت سے ترقیاتی کاموں کیلئے گذشتہ چند دنوں سے سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے ٹینڈر طلب کرنے کے بعد ٹھیکے دار عمدہ راستے تیارکریں حلقے کے ترقیاتی کاموں میں اگر کہیں بھی گھٹیا کام نظر آئیں تو ان ٹھیکداروں کے نام کو بلاک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کردی جائیگی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی تعمیری کام کی سنگ بنیاد رکھنا میرا کام ہے معیاری تعمیری کام کی ذمہ داری ٹھیکیداروں کی ہے اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری افسروں کی ہے اگر اس میں کوتاہی کی گئی تو قانونی کارروائی کے سواء دوسرا راستہ نہیں ہے یہ بات رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کہی ۔آج یہاں تعلقہ کے ملینڈہلی کے پاس 10کروڈ لاگت سے تار گول راستے کے تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھنے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ چنتامنی تا مرغ ملہ کے درمیان پچھلے چند دنوں سے سڑک حادثات پیش آرہے ہیں ان سڑک حادثات میں کئی لوگ اپنی جان گنوا بیٹھیے ہیں ان سڑ ک حادثات پر قابو پانے کے لئے بہت جلد چنتامنی تا مرغ ملہ ڈبل روڈ کے تعمیر کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔کرشناریڈی نے کہا کہ ہمارا ملک بنیادی اعتبار سے کاشتکاروں کا ملک ہے لیکن یہ امر کس قدر افسوس ناک ہے کہ اس ملک میں کسان جو سارے ملک کو غذا فراہم کرتا ہے فاقہ زدگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے کاشتکاروں کا ایک بڑا طبقہ آج سوکھے کی لپیٹ میں آکر قرض اور سود کے شکنجے میں اس قدر جکڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے اپنی زندگی محال لگنے لگی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ قرض اور اپنے کاشتکاری کے تفکرات سے گھرا ہوا ملک کا کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہورہا ہے آج ہم دیکھتے ہیں کہ کسانوں کی خود کشیوں کی وارداتیں ہر روز اخبارات میں آرہی ہے ان حالات میں حکومت کو ان کی بقا اور راحت کے لئے آگے بڑھنا چاہئے تھا لیکن افسوس ہے کہ سرکار عدم توجہی نے حالات کو مزید سنگین بنادیا ہے حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر ان مظلوم کسانوں کی راحت رسانی کے لئے مناسب اور فوری اقدامات کرے۔
انہوں نے ملک میں تعلیمی حالات کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں تعلیمی خرچے اتنے زیادہ ہیں کہ نہ کچھ کھانے کو مل رہا ہے اور نہ کچھ پینے کو اور نہ کچھ پڑھنے کو۔اب تو ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے دروازے غریبوں پر بند ہوتے جارہے ہیں، کیونکہ وہ بھاری فیسیں ادا کرنے سے قاصر ہیں،جو طالب علم گاؤں سے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں ان کے والدین کیا کریں،کیونکہ کرایوں اور فیس میں اضافہ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ۔وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں یا دو وقت کی روٹی کھائیں۔اگر تعلیمی اخراجات میں کمی نہ ہوئی تو ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔میری حکومت سے اپیل ہے کہ تعلیمی خرچے کم کیے جائیں تا کہ تعلیم ہر ایک کی دسترس میں آجائے کیونکہ ہو نہار بچوں کے غریب والدین پڑھانے کے لیے بھاری فیسیں ادا نہیں کر سکتے۔اس موقع پر کوربور رویندرہ گوڈا مدثر نظر ڈاکٹر وزیر احمد جنتادل(ایس)تعلقہ صدر تلگوار راج گوپال ضلع پنچایت سابق رُکن شرنیواس ریڈی سمیت کئی سیاسی لیڈران موجود رہے۔