منگلورو 3؍جنوری (ایس او نیوز) منگلورو کے قریب پیلی کولا میں واقع تفریح گاہ واٹر پارک میں پکنک منانے والے شہر کے ایک کالج کے طلبہ پر سنگھ پریوار سے وابستہ مورل پولیسنگ کارکنان نے حملہ کردیا۔ یہاں تک پولیس کی موجودگی میں ایک لڑکی کو تھپڑ مارنے کے مناظر سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ اس واقعہ کو پہلے تو پولیس نے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیاتو ایک وکیل کی مداخلت کے بعد پولیس نے چوکسی دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے معاملہ درج کرلیا اور پھر تین ملزموں کو گرفتار کیا۔جن کے نام ورد، سمپت شیٹی اوردنیش بتائے جاتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ تالی پاڈی کی ایک کالج میں زیر تعلیم دو لڑکیا ں اور دو لڑکے کرایے کی کار پر پیلی کولا کی تفریح گاہ پہنچے تھے۔واٹر پارک میں ان طلباء کے پکنک منانے کی خبر ملنے پر سنگھ پریوار کے کارکن وہاں پہنچے اور طلباء پر حملہ کردیا۔
جب کاوور پولیس کو واقعے کی خبر ملی تو اس نے موقع پر پہنچ کر ان طلباء کو واٹر پارک سے باہر بلا کر لے جانے کی کوشش کی تو اس وقت وہاں پر موجود ہندو جاگرن ویدیکے کے مقامی کارکن سمپت شیٹی نے پولیس کے سامنے ہی اپنی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لڑکی پر حملہ کردیا۔ مگر پولیس نے ا س وقت حملہ آور کو اپنی تحویل میں نہ لیتے ہوئے اسے یونہی نظر انداز کردیا۔ جب یہ مناظرسوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئے اور پولیس کے خلاف ہر طرف سے بیانات اور تبصرے شروع ہوگئے۔اس کے بعد پولیس نے بد امنی پھیلانے اور حملہ کرنے جیسے کئی دفعات کے تحت ملزمین کے خلاف کیس درج کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سمپت شیٹی کے خلاف اس سے قبل بھی کاوور پولیس اسٹیشن دیگر معاملات میں بھی درج ہوچکے ہیں۔ڈی سی پی ہنومنت رائے کا کہنا ہے کہ مارپیٹ اور غنڈہ گردی کے ویڈیو کلپس دیکھ کر مزید لوگوں پر کیس داخل کیے جائیں گے۔جبکہ سماجی خدمت گار ودیا دینکر ، اور سوشیل ایکٹی وسٹ ایڈوکیٹ دنیش ہیگڈے کے مطابق محکمہ پولیس کے افسران سنگھ پریوار کی غنڈہ گردی کے سامنے بے بس ہوگئے ہیں ۔پیلی کولا واٹر پارک میں جو کچھ ہوا وہ لائق مذمت ہے۔ اس سے پولیس کے وقار پر سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔کیونکہ پولیس کے رویے سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ اس طرح کی اخلاقی پولیسنگ کے لئے اس نے سنگھ پریوار کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔