لکھنؤ،11؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک طرف جے شاہ اورجینت سنہاکامعاملہ گرم ہے دوسری طرف بی جے پی اپنی پاکی وصفائی کے دعوے پربضدہے ۔ویاپم گھوٹالہ،حالیہ دنوں کے بہاراین ڈی اے حکومت میں ہوئے مبینہ گھوٹالوں کے باوجودمرکزی وزیر قانون روی شنکرپرسادنے کہاہے کہ پی ایم مودی کی حکومت کے تین سال کی مدت میں کرپشن کا ایک بھی معاملہ نہیں ہوا۔ نوٹ بندی کی وجہ سے نکسلواد اور دہشت گردی پر لگام لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ لکھنؤ میں منعقد ہندوستان سربراہی اجلاس میں شامل ہونے آئے تھے۔کسانوں کی خود کشی کے معاملے پر وزیر قانون نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی کسان خودکشی کرے، یہ درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب مودی حکومت آئی تھی تب موبائل بنانے والی صرف تین کمپنیاں تھی لیکن اس وقت 104کمپنیاں ہیں۔ہم ملک کے چھ کروڑ گاؤں کے غریبوں کو ڈیجیٹل لیبارٹیری کرنے جا رہے ہیں۔ ہندوستان مسلسل ڈیجیٹل ادائیگی کا مرکز بن رہا ہے۔جی ایس ٹی کے سوال پر روی شنکر پرساد نے کہا کہ 130کروڑ لوگوں کے ہندوستان میں اگر کوئی حکومت دعوی کرتی ہے کہ اس کے پاس تمام معلومات ہے تو یہ غلط ہے، لہٰذا جی ایس ٹی میں ترمیم کی جارہی ہے۔