ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھی نہیں بیدارہوئی حکومت، دفاعی بجٹ بڑھانا ضروری:پارلیمانی کمیٹی

پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھی نہیں بیدارہوئی حکومت، دفاعی بجٹ بڑھانا ضروری:پارلیمانی کمیٹی

Sat, 11 Mar 2017 00:11:19    S.O. News Service

نئی دہلی،10/مارچ (آئی این ایس انڈیا/ ایس او نیوز)دفاعی امور پر پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی نے فوجی تنصیبات کی حفاظت میں اصلاحا ت کے لیے ایماندار پہل نہ کرنے پر وزارت دفاع تنقید کی ہے۔کمیٹی نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ اور اڑی میں دہشت گردانہ حملے کے باوجود حکومت ابھی بھی بیدا رنہیں ہوئی   ہے۔ کمیٹی نے ملک کے دفاعی بجٹ میں اضافہ کی وکالت کی ہے۔بی جے پی ممبر پارلیمنٹ بھون چندر کھنڈوری کی صدارت والی کمیٹی نے کہا ہے کہ ان حملوں کے بعد بھی وزارت دفاع نے ضروری اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ایک انگریزی اخبار میں شائع خبر کے مطابق، کمیٹی کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کو مزید بہتر کرنے کے لیے فوج کے سابق نائب سربراہ فلپ کیمپوج نے مئی 2016میں اپنی رپورٹ سونپی تھی،اس کے بعد بھی اس سمت میں کوئی قدم اٹھتے نہیں دیکھا جا رہا ہے۔کمیٹی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں لکھا ہے کہ سیکورٹی کے حالات ویسے ہی ہیں جیسے پٹھان کوٹ اور اڑی حملے کے وقت تھے، ایسا نہیں لگتا ہے کہ کیمپوج کے رپورٹ پیش کرنے کے بعد بھی سیکورٹی اصلاحات کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا ہے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ملک کے دفاعی بجٹ میں اضافہ کی وکالت کی ہے،کمیٹی نے کہا کہ اگلے مالی سال کے لیے 2.81لاکھ کروڑ روپے کا دفاعی بجٹ مسلح افواج کی جدیدکاری کے لیے بالکل ناکافی ہے اور اس کا اثر فوجی تیاریوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔کمیٹی نے توپ خانوں، ایئر ڈیفنس گن، بلٹ پروف جیکٹوں، ہیلی کاپٹر، میزائل، آبدوزوں، بحریہ جہازوں، جنگی اور ٹرانسپورٹ طیاروں وغیرہ کے پروگراموں اور منصوبوں میں انتہائی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور نئے طریقوں کے فروغ اور موجودہ طریقہ کار میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارگل کمیٹی کی رپورٹ اور دفاعی  خریداری کے معاملات سے متعلقہ وزراء کی سفارش پر قبضہ شاخ قائم کی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحویل برانچ نامی خصوصی تنظیمی طریقہ کار ہونے کے باوجود توپ خانوں، ایئر ڈیفنس گن، بلٹ پروف جیکٹوں، ہیلی کاپٹر، میزائل، آبدوزوں،  بحری جہاز، لڑاکا اور نقل و حمل طیاروں وغیرہ کے پروگراموں اور منصوبوں میں انتہائی تاخیر ہوئی ہے۔کمیٹی نے کہا کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظام مضبوط نہیں ہے جس کی وجہ سے منصوبہ کی تعمیل میں گڑبڑیوں کی گنجائش ہے۔اس نے کہا، اس لیے  کمیٹی چاہتی ہے کہ وزارت اپنا محاسبہ کرے اور نئے نظام کو فروغ دے،ساتھ ہی موجودہ طریقہ کار کو درست کرے تاکہ ہماری فوجیں ہر وقت اور ہر حال میں خود کو جنگ کے مقصدسے تیار رکھنے کے لیے لازمی فراہمی اور ضروریات کو حاصل کر سکے۔
 


Share: