لاہور، 23/جون (آئی این ایس انڈیا) دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج پلازمہ تھراپی سے آزمائشی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی کرونا وائرس سے متاثرہ ہر مریض کے لیے موثر نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ صرف ان مریضوں کا علاج ممکن ہے جو ’سیویئر اسٹیج‘ پر ہوں۔ جو مریض اس وبا سے’کریٹیکل اسٹیج‘ پر پہنچ چکے ہوں، پلازمہ تھراپی کے ذریعے ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔
پلازمہ تھراپی کے لیے درکار پلازمہ اور اس میں موجود ’اینٹی باڈیز‘سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لازمی نہیں کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ہر فرد سے حاصل کردہ پلازمہ میں اینٹی باڈیز موجود ہوں۔ تاہم پلازمہ عطیہ کرنے والے شخص کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہوتے اور یہ عمل 30 سے 45 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے آزمائشی بنیادوں پر علاج کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔
پاکستان میں پلازمہ تھراپی سے متعلق کچھ غلط فہمیاں اور ابہام پائے جاتے ہیں۔ جنہیں دور کرنے کے لیے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں شعبہ ئ فزیالوجی اور پلازمہ تھراپی ٹرائل کے سربراہ ڈاکٹر فریدون جواد سے بات کی ہے۔
ڈاکٹر فریدون کے مطابق انسانی جسم کے اندر جب باہر سے جراثیم داخل ہوتے ہیں،تو سب سے پہلے انسان کی قوتِ مدافعت اس کی تشخیص کرتی ہے۔ پھر قوتِ مدافعت ان جراثیم کے خلاف مالیکیولز بناتی ہے جو ان جراثیم سے لڑتے ہیں۔ ان مالیکیولز کو ’اینٹی باڈیز‘ کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر فریدون کا کہنا تھا کہ انسانی جسم میں بننے والی اینٹی باڈیز اسی جرثومے کیخلاف استعمال کی جاتی ہیں، جن جراثیم کے خلاف وہ اینٹی باڈیز بنی ہوتی ہیں۔
کرونا وائرس کے مریضوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کوئی مریض کرونا سے صحت یاب ہو جاتا ہے تو اس کے خون میں ’اینٹی باڈیز‘ موجود ہوتی ہیں۔
ان کے بقول صحت یاب ہونے والے مریض کا پلازمہ جب وائرس سے متاثرہ کسی دوسرے شخص کو لگایا جاتا ہے، تو اس پلازمہ میں موجود اینٹی باڈیز مریض کے جسم میں وائرس کی تشخیص کرتی ہیں اور قوتِ مدافعت کے باقی اجزا کرونا وائرس کو تلف کر دیتے ہیں۔