نئی دہلی:24 نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اجودھیا میں متنازعہ مقام پررام مندرتعمیرکولے کرتیزہوتی آوازکے درمیان سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی نے ملک کے حالات کولے کرتشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت برے اورخراب دورسے گزررہا ہے، جہاں تعصب اورتنگ نظری میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔
پرنب مکھرجی دہلی میں"امن، آہنگی اورخوشی، تبدیلی کی منتقلی" کے موضوع پرقومی اجلاس کے افتتاح کے موقع پرخطاب کررہے تھے۔ اس دوران سابق صدرجمہوریہ نےکہا کہ"جس سرزمین نے دنیا کوخاندان کے اقداراوررواداری، تہذیب وثقافت کے تصورکوفروغ دیا، وہ اب تعصب، غصے کا اظہاراورحقوق انسانی کی خلاف ورزی کولےکرخبروں میں ہے۔
سابق صدرجمہوریہ نے کہا کہ امن اوربھائی چارہ تب ہوتا ہے جب کوئی ملک دوسروں کا احترام کرتا ہے، عدم تعصب کواپناتا ہےاورمختلف طبقات اورمذاہب کے دوران بھائی چارہ کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی ساتھ آئینی اداروں اورریاست کے درمیان طاقت کے مناسب توازن کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی خود اعتمادی بحالی کے لئے سدھاراداروں کے اندرسے ہونے چاہئے۔
پرنب مکھرجی فاونڈیشن اورسینٹرفارریسرچ ان رورول ڈیولپمنٹ کے ذریعہ منعقدہ تقریب میں سابق صدرجمہوریہ نے کہا "ہمارے آئین نے مختلف اداروں اورریاست کے درمیان طاقت کا ایک مناسب توازن فراہم کیا ہے۔ یہ توازن بنائے رکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 برسوں میں ملک نے ایک کامیاب پارلیمانی جمہوریت، ایک آزاد عدلیہ اورالیکشن کمیشن، کمپٹرولراورآڈیٹرجنرل، سینٹرل ویجیلنس کمیشن اورسینٹرل انفارمیشن کمیشن جیسے مضبوط ادارے قائم کئے ہیں، جوہمارے جمہوری ڈھانچے کوزندہ رکھتے ہیں اورانہیں مضبوط کرتے ہیں۔
پرنب مکھرجی نے کہا کہ ملک کوایک ایسی پارلیمنٹ کی ضرورت ہے جوبحث کرے اورفیصلے کرے، نہ کہ رکاوٹ ڈالے، ایک ایسی عدلیہ کی ضرورت ہے جوبغیرتاخیرکے فیصلہ اورانصاف فراہم کرے۔ ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جوقوم کے تئیں وقف ہواوران اقدارکی ضرورت ہے، جوہمیں ایک عظیم تہذیب یافتہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جولوگوں میں اعتماد پیدا کرے اورجوہمارے سامنے پیدا ہوئے چیلنجزسے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔