بنگلورو۔17؍نومبر(ایس اونیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے پرانے اور ممنوعہ ہزار اور پانچ سو کے نوٹ منظور کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی پچھلے تین دنوں کے اندر اثاثہ ٹیکس کے کھاتوں میں چار کروڑ روپیوں سے زیادہ کی رقم وصول ہوئی ہے۔ اس میں سے دو کروڑ روپیوں کا اثاثہ ٹیکس اور دو کروڑ روپیوں سے زیادہ کی رقم بیٹر منٹ چارجس کے طور پر ادا کی گئی ہے۔ یہ بات آج برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے بتائی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق پہلے 14؍ نومبر تک پرانے نوٹوں سے اثاثہ ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیاتھا ،لیکن اب مرکزی حکومت کی طرف سے اہم سرکاری خدمات کیلئے 24؍ نومبر تک ان نوٹوں کے استعمال کی گنجائش مہیا کرائے جانے کے بعد بی بی ایم پی نے اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے اس مدت کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 24 نومبر تک بی بی ایم پی کو اثاثہ ٹیکس کی وصولی میں اور بھی کئی گنا اضافہ کا پورا یقین ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی کے تمام آٹھ ڈویژنوں میں ریوینیو افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ بینکوں کو تاکید کی جائے کہ اثاثہ ٹیکس چالان کے عوض پرانے نوٹوں سے ادائیگی قبول کی جائے۔ انہوں نے بتایاکہ 24نومبر تک بی بی ایم پی کو اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کے ذریعہ کم از کم دس کروڑ روپیوں کی وصولی ہونے کی توقع ہے۔