جمہوری سیاست میں بجٹ محض مالی اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاست کی ترجیحات، سماجی انصاف کے نظریے اور حکمرانی کے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے حالیہ بجٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی بیانیہ اور حقیقت کے درمیان واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی رہنماؤں نے اس بجٹ کو طنزیہ انداز میں “بردرز بجٹ” قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حکومت نے ریاست کے وسائل صرف اقلیتوں کے لیے وقف کر دیے ہیں۔ لیکن جب بجٹ کے اصل اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ دعویٰ حقیقت کے بالکل برعکس معلوم ہوتا ہے۔
ریاستی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 4.48 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اس کے مقابلے میں اقلیتی طبقات کے لیے مختص رقم 4,761 کروڑ روپے ہے، جو مجموعی بجٹ کا محض ایک فیصد بنتی ہے۔ اگر اسے آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو کرناٹک میں اقلیتی طبقات کی مجموعی آبادی تقریباً 16 فیصد ہے۔ اصولی طور پر اگر بجٹ کی تقسیم آبادی کے تناسب کے مطابق ہوتی تو اقلیتوں کے لیے بجٹ کا کم از کم 16 فیصد حصہ مختص ہونا چاہیے تھا۔ اس حساب سے اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے تقریباً 70 ہزار کروڑ روپے کی رقم بنتی ہے۔
حتیٰ کہ اگر اس تناسب کو کم کر کے صرف پانچ فیصد بھی مان لیا جائے تو اقلیتی طبقات کے لیے کم از کم 25 ہزار کروڑ روپے مختص ہونے چاہیے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں صرف 4,761 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ جس بجٹ میں اقلیتوں کے لیے صرف ایک فیصد رقم رکھی گئی ہو، اسے کس منطق کے تحت “بردرز بجٹ” کہا جا رہا ہے؟
یہ معاملہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ سیاسی بیانیہ اور سماجی ذہن سازی کا بھی ہے۔ جب کسی بجٹ کو ایک مخصوص مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد اکثر سیاسی فضا کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ اس سے عام شہریوں میں یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ ریاست کے وسائل کسی ایک طبقے کے حق میں جھک گئے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
اگر بجٹ کی مکمل تفصیلات دیکھی جائیں تو واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے سماج کے مختلف طبقات کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈ مختص کیے ہیں۔ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے 46,500 کروڑ روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔ سماجی بہبود محکمہ کے تحت 15,081 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم رہائشی اسکولوں، طلبہ کے وظائف اور دیگر فلاحی اسکیموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ پسماندہ طبقات کے فلاحی محکمہ کے تحت کئی نئی اسکیمیں اور کارپوریشنیں قائم کی گئی ہیں، جن میں ریاست کے بڑے سماجی گروہ بھی شامل ہیں۔
اس کے باوجود اقلیتوں کے لیے نسبتاً محدود فنڈ کو لے کر جو سیاسی شور برپا کیا جا رہا ہے، وہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا واقعی مسئلہ فنڈ کی مقدار ہے یا پھر سیاسی بیانیہ کی تشکیل؟
ایک اور اہم پہلو گزشتہ بجٹ کے تجربات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پچھلے مالی سال میں اقلیتوں کے لیے تقریباً 4,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ مگر اس حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے کہ اس میں سے پچاس فیصد فنڈ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ جو فنڈ جاری ہوا، اس کا بھی مکمل استعمال نہیں ہو سکا۔ اس صورت حال نے اقلیتی فلاحی اسکیموں کے نفاذ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہاں دو الگ الگ مسائل سامنے آتے ہیں۔ پہلا مسئلہ بجٹ میں مختص رقم کا ہے اور دوسرا مسئلہ اس رقم کے مؤثر استعمال کا۔ اگر فنڈ مختص ہونے کے باوجود بروقت جاری نہ ہو یا متعلقہ ادارے اسے استعمال نہ کر سکیں تو اس کا نقصان براہ راست ان طبقات کو پہنچتا ہے جن کے لیے یہ رقم رکھی گئی ہوتی ہے۔ اس لیے صرف سیاسی الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ انتظامی سطح پر جواب دہی اور شفافیت بھی ضروری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اقلیتی فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں کئی مرتبہ بیوروکریٹک رکاوٹیں، پیچیدہ قواعد اور کمزور نگرانی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اگر فنڈز کے اجرا اور استعمال کے درمیان یہی خلا برقرار رہا تو بجٹ میں اعلان کی گئی اسکیمیں محض کاغذی وعدے بن کر رہ جائیں گی۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف فنڈ مختص کرے بلکہ اس کے بروقت اجرا اور مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنائے۔
سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو “بردرز بجٹ” جیسی اصطلاحات دراصل ایک خاص ذہن سازی کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس طرح کے الفاظ عوامی مباحثے کو اصل سوالات سے ہٹا کر جذباتی رخ پر لے جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بجٹ میں اقلیتوں کے لیے مختص رقم نہ صرف محدود ہے بلکہ آبادی کے تناسب سے بھی بہت کم ہے۔
جمہوری نظام میں بجٹ کو سماجی انصاف کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کس مذہب یا برادری کو کیا ملا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ریاست کے وسائل کس حد تک پسماندہ طبقات کی ترقی اور مساوی مواقع کی فراہمی میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی طبقہ تعلیمی، معاشی یا سماجی اعتبار سے پیچھے رہ گیا ہے تو اس کی مدد کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
کرناٹک کے موجودہ بجٹ پر ہونے والی بحث ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ سیاست اور حقیقت کے درمیان فاصلہ اکثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس فاصلہ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ کے اعداد و شمار کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق اور دستاویزی شواہد کی روشنی میں دیکھا جائے۔
آخرکار جمہوریت کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست کے وسائل کو انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ اگر اس عمل کو مذہبی یا فرقہ وارانہ زاویے سے دیکھنے کی روایت مضبوط ہوتی گئی تو نہ صرف عوامی مباحثہ کمزور ہوگا بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے سمجھنا اور سمجھانا آج کے سیاسی ماحول میں سب سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا کہتے ہیں
جس عہد میں ہم ہیں اسے کیا کہتے ہیں
( مضمون نگار عبدالحلیم منصور کا شمار کرناٹک کے سنئیر صحافیوں میں ہوتا ہے اور مضمون نگار کے خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)