اسلام آباد 3/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں ایک 16سالہ کمسن لڑکی کو برہنہ کرکے گلی گلی اور بازار میں گھمانے کے الزام میں پولس نے بالاخر آٹھ لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، البتہ اس معاملے کا اہم ملزم ابھی تک فرار ہے۔
پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق لڑکی کو صرف اس بناء پر برہنہ کرکے گھمایا گیا کیونکہ اس کے بھائی کی اُسی دیہات کی ایک لڑکی کے ساتھ دوستی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ صرف اسی بات پر بھائی کو سزا دینے کے بجائے اُس کی بہن کو ایسی لرزہ خیز سزا دی گئی کہ لڑکی بے لباس ایک گھنٹہ تک بھرے بازار میں گھومتی رہی اور لوگوں کو مدد کے لئے پکارتی رہی، مگر اس کی مدد کو کوئی بھی آگے نہیں آیا۔ تعجب اس بات کا بھی ہے کہ ایک گھنٹہ تک پولس نے بھی مداخلت نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق برہنہ کرکے بھرے بازار میں گھمانے کی واردات 27 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ مخالفین نے پانی بھر کر گھر جانے والی لڑکی کو پہلے بے لباس کیا پھر برہنہ حالت میں گلیوں اور بازاروں میں گھمایا۔ اس موقع پر لڑکی ایک گھنٹے تک مدد کو پکارتی رہی لیکن اس کی مدد کو کوئی بھی آگے نہیں بڑھا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈر اور خوف کے باعث کوئی بھی لڑکی کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا۔ پولیس کے مطابق تین سال قبل متاثرہ لڑکی کے بھائی سجاد کی ، گاؤں کی ایک لڑکی سے میل جول اور تعلقات تھے جس پر پنچایت نے ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ کی ادائیگی کے بعد معاملہ رفع دفع کر دیا تھا مگر مخالفین کے بدلے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی اور انہوں نے معصوم لڑکی کی عزت تار تار کر دی۔
ذرائع کے مطابق اس افسوسناک واقعہ کے بعد متاثرہ لڑکی کے والدین نے پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا تھا، لیکن پولیس نے ابتدا میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔ مگرجب واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تو پولیس کو مجبوراً ایف آئی آر درج کرنا پڑا۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ریجنل پولیس آفیسر سید فدا حسن شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی ہدایت پر وہ خود اس واقعے کی تحقیقات اور کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے خاندان کے خلاف دائر کیے جانے والے فرضی اور جھوٹ پر مبنی مقدمے کو فی الفور منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ متاثرہ لڑکی کی بے عزتی کرنے اور تشدد میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد 9 ملزمان میں سے 8 کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم مرکزی ملزم سجاول مفرور ہے۔
انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رضاکار رخشندہ ناز نے اس واقعے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے خواتین کے خلاف تشدد میں ملوث افراد کے خلاف بر وقت کارروائی نہ ہونے کے باعث اس قسم کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جو انتہائی باعثِ تشویش ہے۔