نئی دہلی ،2؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نیشنل انسٹیٹیوٹ کمیشن بل 2017(میڈیکل بل)کو غور کے لئے پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کو بھیج دئیے جانے کے بعد انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے پورے ملک میں جاری ڈاکٹروں کی ہڑتال کو واپس لے لیا ہے۔کمیٹی اس بارے میں اپنی رپورٹ بجٹ اجلاس سے پہلے پیش کرے گی۔پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے کا امکان ہے۔اس بل کی انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے(آئی ایم اے)مخالفت کی تھی اور وقفہ صفر کے دوران ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے اس موضوع کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس بل کی مخالفت میں ڈاکٹر طویل ہڑتال پر جانے کی بات کہہ رہے ہیں۔وقفے کے بعد لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے پر پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس، اے آئی اے ڈی ایم کے، این سی پی، ٹی ڈی پی اور کچھ دوسری جماعتوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ کمیشن بل کو مستقل کمیٹی کے پاس بھیجنے کے لئے کہا ہے۔ہم کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت اسے مستقل کمیٹی کے پاس بھیجنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کا مقصد طبی تعلیمی نظام کو صاف ستھرا کرنا ہے۔اس بل کوجلد منظور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ایسے میں آپ سے (لوک سبھا اسپیکر)گزارش ہے کہ آپ مستقل کمیٹی سے کہیں کہ وہ اگلے بجٹ اجلاس سے پہلے رپورٹ سونپ دے تاکہ بل کو بجٹ سیشن میں منظور کرایا جا سکے۔اس کے بعد اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ اس بل کو مستقل کمیٹی کے پاس بھیجا جاتا ہے اور وہ بجٹ سیشن سے پہلے اپنی سفارشات سونپ دے۔اس بل کو گزشتہ ہفتے ایوان میں صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر جے پی نڈا نے پیش کیا تھا جس میں ملک میں طبی تعلیم کو معیاری بنانے اور طبی خدمات کے تمام پہلوؤں میں اعلی معیار کو برقرار رکھنے کے مقصد سے بھارتی انسٹیٹیوٹ کونسل (ایم سی آئی) کی جگہ نیشنل انسٹیٹیوٹ کمیشن کے قیام کی تجویز کی گئی ہے۔