ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پارتھا چٹرجی نے کشمیر میں انسانی ڈھال کا موازنہ جلیاں والا باغ سانحہ سے کیا 

پارتھا چٹرجی نے کشمیر میں انسانی ڈھال کا موازنہ جلیاں والا باغ سانحہ سے کیا 

Wed, 07 Jun 2017 13:47:34    S.O. News Service

نئی دہلی، 6؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )مشہورتاریخ داں پارتھا چٹرجی کے ایک مضمون پر تنازعہ ہو گیا ہے۔پارتھا چٹرجی نے کشمیر میں ایک شہری کو جیپ سے باندھ کر لے جانے کے واقعہ کا موازنہ جلیاں و الا باغ سانحہ سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد ہندوستان کا جنرل ڈائر مومنٹ ہے۔پارتھا چٹرجی کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کے دفاع میں جو دلیل دی گئی، ان میں کئی مماثلت ہیں۔پارتھا چٹرجی کے مطابق ، جنرل ڈائر کے عمل کی ونسٹن چرچل اور دیگر لیڈروں نے تنقید کی تھی، جبکہ میجر گوگوئی نے جو کیا، پہلے جنرل راوت نے اس کا دفاع کیا اور پھر کئی اور وزراء بھی اس کی حمایت کرتے نظر آئے۔پارتھا چٹرجی کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ہی حالات رہے تو ہندوستان کے آہستہ آہستہ پاکستان کے ایوب خان یاضیاء الحق والے دور میں پہنچ جانے کا خطرہ پیداہوجائے گا ۔جب میڈیا نے ان سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی ،تو انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر آگے کچھ کہنا ضروری ہوا ، تو وہ اپنی بات پرنٹ میڈیا کے ذریعے رکھیں گے۔دراصل ، اننت ناگ ضمنی انتخابات کے دوران ایک پولنگ پارٹی کو مبینہ طورپر پتھربازوں اور فسادیوں سے بچانے کے لیے فوج کے میجر گوگوئی نے اپنی جیپ کے آگے ایک مقامی شہری فاروق احمد ڈار کو باندھ دیا تھا۔ان کے اس فیصلے کی کئی لوگوں نے تعریف بھی کی تھی ۔فوج نے انہیں خصوصی میڈل سے نوازاہے ۔فوج کے سربراہ نے بھی کھل کر ان کی حمایت میں بیان دیا۔فوج کے سربراہ جنرل راوت نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کشمیر میں جوانوں پر پتھر بازی ہوگی ،تو میں نے ان کو خاموش کھڑے رہنے اور انتظار کرنے کو نہیں کہہ سکتا۔مظاہرین کے ہاتھوں میں پتھر کی جگہ بندوق ہوتی، تو ہم صحیح طریقے سے جواب دیتے۔ظاہر ہے ایسے بیان کے بعد کافی لوگوں نے ان کی تنقیدبھی کی تھی ۔


Share: