ممبئی — 28 جون (ایس او نیوز) شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے اتوار کو پربھنی اور دھاراشیو (عثمان آباد) میں ہونے والے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا نام لے کر اس پر ایک نیا اور خاص طور پر تیز طنزیہ فقرہ کستے ہوئے بی جے پی کو “بابر جنتا پارٹی” قرار دیا۔
مراٹھی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پربھنی کے جلسے میں، جہاں اودھو ٹھاکرے باغی رکن پارلیمنٹ سنجے جادھو (بندو جادھو) کے حلقے کا دورہ کر رہے تھے، انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے دراصل مندر بنانے کا ارادہ کبھی کیا ہی نہیں تھا، بلکہ وہ رام کے نام پر لوٹ مار کرنا چاہتی تھی۔ ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح "کاکروچ جنتا پارٹی" وجود میں آئی تھی، اسی طرح اب ایک "نئی بھاجپا" وجود میں آ چکی ہے — اور وہ ہے "بابر جنتا پارٹی"۔ ان کے بقول یہ لوگ بابر کی اولاد ہیں جنہوں نے مندر کو لوٹا۔، بابر کی طرح آج کی بی جے پی نے مندر کے عطیات کی لوٹ مار کے ذریعے اسی ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ ٹھاکرے نے پوچھا کہ "اب تم میں اور بابر میں کیا کوئی فرق باقی رہ گیا ہے؟"
ٹھاکرے نے ایک اور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسی طرح کا فقرہ دہرایا اور کہا کہ موجودہ بی جے پی پہلے والی بی جے پی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک "نئی بھاجپا" ہے جو "بابر جنتا پارٹی" بن چکی ہے، اور اب اس میں اور "بابری ذہنیت" میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی اور ان کی پارٹی کی شناخت چھترپتی شیواجی مہاراج کے نظریے اور کسانوں کو ان کی پیداوار کا حق دلانے والے حقیقی ہندوتوا سے ہے۔
اس جلسے میں ٹھاکرے نے رکن پارلیمنٹ اومراجے نمبالکر کو "غدار" قرار دیا اور عوام سے باضابطہ معافی مانگی کہ انہوں نے ایسے شخص کو امیدواری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آخری لمحے تک ان کا ساتھ دیتے رہے، مگر انہوں نے غداری کی۔
اودھو ٹھاکرے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مہاراشٹرا کی سیاست میں جاری "آپریشن ٹائیگر" دراصل "آپریشن دیویندر (فڑنویس)" ہے — یعنی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت (ان کے بقول امیت شاہ) خود اپنی پارٹی کے اندر دیویندر فڑنویس کے وزیراعلیٰ کے عہدے اور مستقبل میں وزیراعظم کی دوڑ میں آنے کے امکان کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس دعوے کی تائید میں انہوں نے مدھیہ پردیش کی مثال دی، جہاں بی جے پی نے شیوراج سنگھ چوہان کے نام پر الیکشن جیتا تھا مگر بعد میں انہیں کنارے کر دیا۔ ٹھاکرے کے مطابق نتن گڈکری اور شیوراج سنگھ چوہان کی طرح اب فڑنویس کے "پر کاٹنے" کی کوشش جاری ہے۔
ٹھاکرے نے اپنے ہندوتوا کے تصور کی وضاحت بھی کی، کہ ان کا ہندوتوا قوم پرستی پر مبنی ہے — جو شخص بھی اس ملک کو اپنا مانتا ہے، خواہ وہ مسلمان ہی ہو، وہ ان کے ہندوتوا کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنا مشہور فقرہ دہرایا: “دل میں رام اور ہاتھ میں کام۔”
یاد رہے کہ رام مندر میں عطیات میں کروڑوں روپیوں کے گھپلوں کا تنازعہ سامنے آنے کے بعد بی جے پی اپوزیشن کے نشانے پر آگئی ہے۔ جس میں اب تک آٹھ افراد گرفتار ہو چکے ہیں اور ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ باغی اراکین پارلیمنٹ حال ہی میں ایکناتھ شندے کی شیوسینا میں شامل ہو گئے ہیں، اور اودھو ٹھاکرے ریاست کے مختلف حلقوں کا دورہ کر کے بی جے پی اور باغیوں دونوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔