کولار،31/دسمبر(ایس او نیوز) ٹیپو سلطان ایک سکیولر ذہن حکمران تھے اور انہوں نے کبھی ذات پات کا بھیدبھاؤنہیں کیا اور فرقہ پرستی کو بڑھاوانہیں دیا تھا۔ مگر افسوس کہ چند لوگ ریاست میں بدامنی پھیلانے کیلئے ٹیپو سلطان کے خلاف الزامات لگارہے ہیں اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بات وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہی۔ انہوں نے یہاں جونےئر کالج میدان میں منعقدہ تقریب میں تقریباً 200 کروڑ روپئے کی لاگت کے ترقیاتی وتعمیری کاموں کا سنگ بنیاد اور افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ٹیپو سلطان ملک کی تاریخ میں ایک ایسے حکمران گزرے ہیں جنہوں نے ملک کے لئے اپنی اولاد کو تک گروی رکھ دیاتھا اور ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے میدان جنگ میں شہید ہوگئے۔ مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور ملک میں بدامنی پھیلانے کے مقصدسے ٹیپو سلطان کو ہندو مخالف کہنا تاریخ کی توہین کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کو عوام کی بھلائی اور ریاست کی ترقی کی کوئی فکر نہیں ہے انہیں صرف ایک دوسرے سے لڑانے کی فکر ہے ان لوگوں کا ایجنڈا ہی ذات پات کی سیاست کو بڑھاوا دینا ہے اور نفرت کی آگ پھیلانا ہے۔ایڈی یورپا کے خلاف الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کی ایک نہیں دو زبانیں ہیں جب چاہے کہیں بات پلٹ دیتے ہیں جب بی جے پی اقتدار پر تھی اس وقت کسانوں کے قرض معاف کرنے کا مطالبہ کانگریس پارٹی نے کیا تھا مگر ایڈی یورپانے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ حکومت کے پاس نوٹ پرنٹ کرنے کی مشین نہیں ہے مگر آج وہ خود کسانوں کے قرض معاف کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت نے آبپاشی منصوبوں پر ہزاروں کروڑ روپئے کا بجٹ دیا ہے اس کے باوجود ایڈی یورپا کسانوں کی ہمدردی میں مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سدارامیا نے امیت شاہ اور ایڈی یورپاپر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں مشن150کے لئے کام کررہے ہیں انہیں اس مشن میں کبھی کامیابی نہیں ملے گی،وہ صرف50کے مشن میں ہی کامیاب ہوسکیں گے۔ بی جے پی کو فرقہ پرست اور جے ڈی ایس کو خاندانی پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے آپ کو کسان کا بیٹا قرار دینے والے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا اور کمار سوامی دونوں موقع پرست سیاستدان ہیں اور ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کس کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ بنگارپیٹ تعلقہ کی حدودمیں شامل کے جی ایف کو علاحدہ تعلقہ کا درجہ دیاگیاہے۔ اس کے تحت آئندہ 27جنوری کو کے جی ایف تعلقہ کی تشکیل عمل میں آئے گی۔ گزشتہ ساڑھے چار سال کے عرصے میں مقامی رکن اسمبلی ایس این نارائن سوامی نے حلقے کی ترقی کے لئے کافی جدوجہد کی ہے اور تقریباً ایک ہزار کروڑ روپئے کی لاگت کے ترقیاتی کام کرائے ہیں جسے بنگارپیٹ اسمبلی حلقے کے لوگ تادیر یادرکھیں گے۔ اورآنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی ان کا تعاؤن ضرور کریں گے۔ریاستی وزیر برائے صحت وخاندانی بہبود وضلع نگراں کار کے آر رمیش کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں سے ریاست میں بدعنوانیوں سے پاک وشفاف انتظامیہ فراہم کرنے والے وزیراعلیٰ سدارامیا اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے پورے کرنے کے بعد اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے آئے ہوئے ہیں۔مقامی رکن پارلیمان وسابق مرکزی وزیر کے ایچ منی اپا نے اپنے خطاب میں کہا کہ کولار ضلع میں ترقیاتی وتعمیری کامو ں کے معاملے میں سرینواس پوراسمبلی حلقہ پہلے مقام پر اور بنگارپیٹ دوسرے مقام پر ہے۔ مقامی رکن اسمبلی ایس این نارائن سوامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعلیٰ سدارامیا نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور ترقیاتی کاموں کے لئے کروڑوں روپئے کا فنڈ منظور کیا جس کی مدد سے آج بنگارپیٹ کا نقشہ ہی بدل چکاہے۔ اس موقع پر سابق چیرمین کرناٹکا لجس لیٹیو کونسل وی آر سدرشن، کے پی سی سی جنرل سکریٹری ایم ایل انیل کمار، مینگوڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیرمین گوپال کرشنا، وظیفہ یاب آئی اے ایس آفسر وکانگریس انتخابی منشور کمیٹی کے رکن سید ضمیر پاشاہ ،شمس الدین بابو، شاہد شہزاد اور دیگر موجود تھے۔