نئی دہلی، 8/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) امسال کے نیٹ امتحان کے نتائج پر اٹھنےوالے سوالات کےبیچ کانگریس نے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کی مانگ کی ہے۔ پارٹی صدر ملکارجن کھرگے اور جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے پہلے اس معاملے کو اٹھایا پھر پارٹی کےلیڈر کنہیا کمار نے پریس کانفرنس میں عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ نیٹ امتحان پر اٹھنےوالے سوالات کے بیچ تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہا ہے کہ اس سے ان کے موقف کی تائید ہوتی ہے اس لئے نیٹ کو بند کردیا جانا چاہئے۔
الزام ہے کہ میڈیکل کے داخلے کے امتحان کا پرچہ لیک ہوا ہے اور امتحان کے نتائج میں بڑی دھاندلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے لاتعداد بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا۔کھرگے نے کہاکہ ’’پیپر لیک، دھاندلی اور بدعنوانی نیٹ سمیت کئی امتحانات کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ اس کی براہ راست ذمہ دار مودی حکومت ہے۔ امیدواروں کیلئے بھرتی امتحان میں حصہ لینا، پھر کئی بے ضابطگیوں سے نپٹنا، پیپر لیک کے چکر میں پھنسنا، ان کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ ‘انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی نے ملک کے نوجوانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ ہو تاکہ نیٹ اور دیگر امتحانات میں شریک ہونے والے ہمارے ہونہار طلبہ وطالبات کو انصاف مل سکے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے کہاکہ پہلے نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہوا اور اب طلبہ نے الزام لگایا ہے کہ اس کے نتائج میں بھی بدعنوانی ہوئی ہے۔ ایک ہی سینٹر کے ۶؍طلبہ کے ۷۲۰؍ میں سے ۷۲۰؍نمبر حاصل ہونے پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں اور کئی طرح کی بے ضابطگیاں سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لاکھوں طلبہ کی آوازوں کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے؟