برادران وطن کے ساتھ خوشگوار تعلقات وقت کا اہم تقاضہ، السور میں جلسہ میلاد النبی سے خطاب
بنگلورو،15دسمبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیر برائے شہری ترقیات و حج آر روشن بیگ آج مسلم نوجوانوں کو آواز دی کہ وہ سستی، مستی اور زبردستی کی روایت کو ختم کرتے ہوئے برادران وطن کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرتے ہوئے خصورﷺ کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ آج السور جامع مسجد اور مقامی نوجوان کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ میلاد النبیﷺ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملت اسلامیہ کیلئے موجودہ دور نہایت نازک دور ہے، ایسے میں ہمیں جھوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شمالی ہند میں داڑھی اور ٹوپی رکھنے کی بنیاد پر مسلمانوں کو جس طرح شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے اور حملے ہورہے ہیں، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ خوش نصیب ہیں کرناٹک کے مسلمان کیونکہ یہاں ایک سکیولر حکومت قائم ہے، اور شمالی ہند کی طرح یہاں کے مسلمان احساس عدم تحفظ کا شکار نہیں ہیں، اور سکیولر حکومت کے سایے میں پُر سکون زندگی بسر کررہے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ انتخابات میں متحدہ طور پر اپنے دستوری ح کا استعمال کرتے ہوئے سکیولر حکومت کے قیام سے اہم رول ادا کریں۔ جناب روشن بیگ نے مزید بتایا کہ آج ہر طرف سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، ساحلی کرناٹکا کے ہوناوار، کمٹہ، سرسی جیسے علاقوں میں سیاسی فائدے کیلئے مخصوص سیاسی جماعت کے ذریعہ نفرت پھیلانے کے علاوہ پُر تشدد ماحول پیدا کرنے کی مذموم کوشش جسے ریاستی حکومت نے کامیاب ہونے نہیں دیا اور فوری طور پر حالات پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کرلی، اگر مستقبل میں ہم لوگوں نے کوتاہی برتی تو یہاں پر بھی فرقہ پرتوں کا راج ہوجائیگا اور ہمیں بھی شمالی ہند کے حالات سے دو چار ہونا پڑیگا۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم ابھی سے حکمت عملی تیار کرلیں۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ موجودہ پُر فتن دور میں ہمارے نوجوانوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، انہیں پوری طرح حکمت سے کام کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم لوگ افواہوں پر توجہ دیکر بہک گئے تو پورے ملت کو اس کاخمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ جناب روشن بیگ نے بتایا کہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ خصورﷺ کی سیرت پر عمل کریں اور ہمارے اخلاق سے برداران وطن کو متاثر کریں۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے ایک جانور کو پانی پلانے پر بھی ثواب کا اعلان کیاہے۔ ایسے میں اگر ہم لوگ کسی غریب مریض کی مدد کریں تو اس سے ہمارے اخلاق ظاہر ہوں گے۔ السور علاقہ کو سکیولرزم کا گڈھ قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایا کہ یہاں پر جامع مسجد، تاریخی سومیشورا مندر، گردوارہ، گرجاگھر سمیت تمام طبقات کے لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ایک گلدستہ میں تمام پھول سموئے ہوئے ہیں۔ یہاں پر ہمیشہ ہی سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول ہے اور تمام طبقات کے لوگ خوشگو ار زندگی بسر کررہے ہیں۔ مسجد کے خطیب مولانا محمد عارف قاسمی نے خطبہ جمعہ میں سیرت النبیﷺ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے آواز دی کہ صلہ رحمی اختیار کریں، حضورﷺ نے اپنے دشمنوں کو تک معاف کیا تھا، ہمیں بھی چاہئے کہ حضورﷺ کے بتائے ہوئے اخلاق پر چلیں۔ بردران وطن مسلمانوں سے اسی طرح کے اخلاق کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ حضورﷺ نے زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے کہ کس طرح بچوں، والدین، بذرگوں، بیوی، پڑوسیوں اور دیگر کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔ اس پر عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جامع مسجد السور کے صدر سمیع اللہ پٹھان نے جناب روشن بیگ کو منفرد سکیولر لیڈر قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ تمام طبقات کے لوگوں کو اپنے ہی خاندان کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ قوم و ملت کی خدمت ان کا معمول ہے۔ السور قبرستان کیلئے یل ای ڈی لائٹوں کی تنصیب، عملہ کے کوارٹرس کی تعمیر اور غسل خانہ کی مرمت کیلئے وزیر موصوف کے ذریعہ فوری طور پر فنڈ کی منظوری اور منصوبہ پر عمل آواری سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یل ای ڈی لائٹوں کی تنصیب کا کام چل رہا ہے۔ جناب پٹھان نے بتایا کہ اس طرح کے نمائندہ کا ملنا ہماری خوش نصیبی ہے۔ اگلے انتخابات میں بھاری اکثریت سے ان کی کامیابی ہم لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر نوجوان کمیٹی کے صدر و سرگرم سماجی کارکن صادق کی قیادت میں بلاتفریق مذہب و ملت تقریباً ڈھائی ہزار لوگوں کیلئے ضیافت عام کا اہتمام کیاگیا تھا۔