بنگلورو، 7/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) نائب وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ مالیات و محصولات ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ ریاست میں ممکنہ خشک سالی کے پیشِ نظر حکومت نے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور عوام و مویشیوں کو کسی بھی قسم کی دشواری سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ودھان سودھا کے احاطے میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ مل کر متعلقہ حکام کو پینے کے پانی کی فراہمی، مویشیوں کے لیے چارے کی دستیابی اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔
ڈاکٹر پرمیشور نے بتایا کہ وہ پہلے ہی بیلگاوی، چترادرگہ اور ٹمکورو اضلاع میں جائزہ اجلاس منعقد کر چکے ہیں۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ چونکہ کئی آبی ذخائر ڈیڈ اسٹوریج کی سطح تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے دستیاب پانی کا استعمال انتہائی احتیاط سے کیا جائے اور اسے صرف پینے کے مقاصد کے لیے محفوظ رکھا جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر آئندہ ایک یا دو دن مزید بارش ہوتی ہے تو آبی ذخائر میں پانی کی سطح بہتر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ملیناڈ خطے میں بارش کے باعث کے آر ایس ڈیم میں پانی کی آمد شروع ہو چکی ہے، جس سے عوام کو پینے کے پانی کے بحران سے کچھ حد تک راحت ملنے کی توقع ہے۔
نائب وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ وہ وزیرِ اعلیٰ کے ہمراہ بیدر کا دورہ کر رہے ہیں، جس کے بعد کل کلبرگی میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جہاں خشک سالی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مویشیوں کے لیے چارے کی قلت سے بچنے کے لیے حکومت پہلے ہی چارہ کٹس تقسیم کر رہی ہے۔ بورویل رکھنے والے کسانوں کو چارہ اگانے کے لیے بیج بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر فوڈر بینک اور گوشالاؤں کے قیام کی بھی ہدایت ضلعی انتظامیہ کو دی گئی ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت خشک سالی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جلد ہی مرکزی حکومت کو تفصیلی رپورٹ ارسال کرے گی اور قومی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (NDRF) کی رقم پیشگی جاری کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر وہ خود مرکزی وزیرِ داخلہ سے ملاقات کرکے ریاست کی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے ایس آئی آر (SIR) عمل کے بارے میں کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق جاری ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔ اگر کسی افسر سے کوتاہی ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن خود اس کے خلاف کارروائی کرے گا۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو غیر ضروری سیاسی رنگ دینے سے گریز کرے۔