ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ننجنگڈھ ، گنڈل پیٹ ضمنی چناؤ کیلئے سہ رخی مقابلہ آرائی؛ کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس امیدواروں کو قطعیت دینے میں مصروف

ننجنگڈھ ، گنڈل پیٹ ضمنی چناؤ کیلئے سہ رخی مقابلہ آرائی؛ کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس امیدواروں کو قطعیت دینے میں مصروف

Sat, 11 Mar 2017 01:54:27    S.O. News Service

بنگلورو۔10؍مارچ(ایس او  نیوز) الیکشن کمیشن کی طرف سے گندل پیٹ اور ننجنگڈھ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست کی سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آچکی ہے۔ ان حلقوں سے امیدواری کے دعویدار تینوں سیاسی جماعتوں کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس متحرک ہوچکے ہیں۔ بی جے پی میں حال ہی میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق وزیروی سرینواس پرساد کو ننجنگڈھ حلقہ سے میدان میں اتارا جارہا ہے، جبکہ کانگریس پارٹی نے ابھی اپنے امیدوار کے متعلق فیصلہ نہیں لیا ہے، امیدواری کے اہم دعویداروں میں ریاستی وزیر برائے تعمیرات عامہ ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا کے فرزند سنیل بوس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پچھلے انتخابات میں اس حلقہ سے جنتادل (ایس) ٹکٹ پر میدان میں اترنے والے کے کرشنا مورتی کے نام پر بھی کانگریس حلقوں میں غور کیا جارہاہے۔ بتایاجاتاہے کہ وزیراعلیٰ سدرامیا اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ سرینواس پرساد کے خلاف کرشنا مورتی کو ہی میدان میں اتاراجائے ، کیونکہ پچھلے انتخابات میں انہوں نے سرینواس پرساد کو زبردست چیلنج دیاتھا۔ گنڈل پیٹ اسمبلی حلقہ میں سابق وزیرآنجہانی ایچ ایس مہادیو پرساد کی بیوہ گیتا پرساد کو میدان میں اتارنے پر غور کیا جارہا ہے، جبکہ بی جے پی پچھلے دو انتخابات میں اس حلقہ میں بہت کم فرق سے ہارنے والے سی ایس نرنجن کو اس بار بھی میدان میں اتارنے پر غور کررہی ہے۔ کانگریس کو توقع ہے کہ ایچ ایس مہادیو پرساد کی بیوہ ڈاکٹر گیتا پرساد کو اگر میدان میں اتارا گیا تو ہمدردی کی لہر کے نتیجہ میں وہ اس حلقہ سے ضرور کامیاب ہوسکتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا بھی ماننا ہے کہ گنڈل پیٹ اسمبلی حلقہ چونکہ مہادیو پرساد کا سیاسی گڑھ رہا ہے ، اسی لئے ان کے خاندان سے کوئی بھی فرد اگر میدان میں اترتا ہے تو اس کی ہار کا سوال ہی نہیں اٹھتا، لیکن ننجنگڈھ اسمبلی حلقہ کا انتخاب سدرامیا کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آسکتا ہے، ریاستی وزارت سے برطرفی سے ناراض ہوکر وی سرینواس پرساد نے کانگریس کو خیر باد کہا اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کرکے وہ دوبارہ اس حلقہ سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ ماناجارہاہے کہ دوحلقوں میں ضمنی چناؤ ریاست کے سیاسی رجحان کا نقیب ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان دو حلقوں کا چناؤ گزشتہ چار سال سے ریاست میں سدرامیا حکومت کی کارکردگی کا ریفرنڈم بھی ہوسکتا ہے۔ دونوں حلقوں میں کانگریس اور بی جے پی کی طرف سے مسلسل بڑے بڑے جلسوں کا اہتمام ہوتا رہا ہے، دونوں پارٹیوں کی طرف سے تیاری بھی بڑے پیمانے پر ہورہی ہے۔ یہ ضمنی انتخابات جہاں سدرامیا حکومت کیلئے وقار کا مسئلہ ہے اسی لئے اس انتخاب کو جیتنے کی ہر ممکن کوشش ہورہی ہے، تو دوسری طرف بی جے پی بھی اس انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے آنے والے دنوں کیلئے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کوشاں ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سدرامیا نے اپنی کابینہ کے تمام وزراء اور اراکین اسمبلی کو سخت تاکید کی ہے کہ چامراج نگر ضلع کے ان دونوں حلقوں کے ضمنی چناؤ میں جب تک پارٹی کو کامیابی نہیں مل جاتی ان تمام کو حلقہ میں پہنچ کر گھر گھر انتخابی مہم چلانی ہوگی۔یہ بھی متنبہ کیاگیاہے کہ ان دونوں حلقوں میں اگر پارٹی کے حق میں نتیجہ اطمینان بخش نہ رہاتو اس کیلئے ذمہ دار وزراء یا قائدین کو آنے والے دنوں میں خمیازہ بھگتنا پڑ سکتاہے۔


Share: